کچے مکان کی ٹوٹی چارپائی سے کروڑوں کی “ہیول” گاڑی اور ڈی ایچ اے کے بنگلے تک۔۔۔

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)“کچے مکان کی ٹوٹی چارپائی سے کروڑوں کی “ہیول” گاڑی اور ڈی ایچ اے کے بنگلے تک… کیا واقعی صرف ٹک ٹاک پر لپسنگ کرنے سے اتنی دولت مل سکتی ہے، یا اس چمکتے پردے کے پیچھے کچھ اور ب۔ک رہا ہے؟”

نئی چمچماتی گاڑی کے ساتھ کھڑی یہ لڑکی مشہور ٹک ٹاکر فاطمہ جتوئی ہے۔ وہی لڑکی جس کی غ۔ی۔ر ا۔خ۔ل۔ا۔ق۔ی ویڈیوز لیک ہوئیں تو اس نے سارا ملبہ ڈاکٹر عفان قیصر پر ڈال دیا۔ لیکن سچائی اس سے کہیں زیادہ خوفناک اور گھناؤنی ہے! ڈاکٹر عفان کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نے اس کی سگی ماں کو بے نقاب کیا تھا، جو مبینہ طور پر اپنی 16 سالہ نابالغ بیٹی سے غ۔ل۔ط ک۔ا۔ر۔ی کروا رہی تھی۔ حقائق یہ ہیں کہ اپنے ہی لوگوں نے اس کی عمر کاغذات میں بڑھائی اور اسے اس وقت دبئی پہنچایا گیا جب پورے پاکستان کے لیے ویزے مکمل بند تھے۔

آج صرف ڈیڑھ سال کے اندر اس لڑکی نے ڈی ایچ اے میں عالی شان گھر اور مہنگی ترین “ہیول” گاڑی خرید لی ہے۔ کمائی کا اصل ذریعہ دبئی کی وہ راتیں ہیں، لیکن کیمرے کے سامنے ٹک ٹاک کی کامیابی کا چورن بیچ کر ان ہزاروں معصوم لڑکیوں کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے جو اسے اپنا رول ماڈل سمجھ رہی ہیں۔

ذرا سوچیں! اگر اس لڑکی کی جگہ کوئی باصلاحیت، پڑھا لکھا نوجوان رات دن محنت کر کے معلوماتی یا ادبی ویڈیوز بناتا، تو آج وہ گاڑی تو دور، ایک اچھا سمارٹ فون لینے کے لیے بھی دھکے کھا رہا ہوتا۔ آج ہمارے معاشرے میں کامیابی کا شارٹ کٹ صرف ج۔س۔م ن۔م۔ا۔ئ۔ی اور ب۔ے ح۔ی۔ا۔ئ رہ گئی ہے۔ ویوز اور ڈالرز کی ہوس اس قدر اندھی ہو چکی ہے کہ اب مرد حضرات چند روپوں اور سستی شہرت کی خاطر اپنی ہی بیویوں اور بہنوں کو چست لباس پہنا کر سکرین پر لا رہے ہیں! کیا ہم بحیثیت قوم واقعی اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ اب محنت، تعلیم اور غیرت کی جگہ… ہماری نسلیں اس غ۔ل۔ا۔ظ۔ت کو کامیابی کی معراج سمجھ کر اپنائیں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *