راجہ صاحب میں تنگ آچکا ہوں سوچ رہا ہوں نوکری چھوڑ دوں، یہ بات احمد محی الدین نے ایک۔۔۔۔

راجہ صاحب : میں تنگ آچکا ہوں ، سوچ رہا ہوں نوکری چھوڑ دوں ۔۔۔۔!!! بھائیوں جیسے دوست صحافی راجہ لیاقت کو کچھ ہفتے قبل احمد محی الدین نے کیا کہا تھا ؟ آخر کار اصل کہانی سامنے آگئے۔
راجہ لیاقت کے بقول ۔۔۔ کچھ عرصہ قبل جب مینار پاکستان پر ایک ٹک ٹاکر خاتون کو ہجوم نے چھیڑ خانی کا نشانہ بنایا تو ساجد کیانی ان دنوں ڈی آئی جی آپریشنز لاہور تھے ، حکومت اور اعلیٰ حکام سے اور تو کچھ نہ بنا ساجد کیانی جیسے شاندار افسر کا تبادلہ کردیا ۔ چند ماہ بعد ثابت ہوا کہ اس میں ڈی آئی جی کا کوئی قصور نہیں تھا ٹک ٹاکر نے خود ویوز کے لیے یہ ڈرامہ کیا تھا ۔۔ پھر وہ راولپنڈی میں تھے اور شاندار کارکردگی دے رہے تھے لیکن مری میں ایک سانحہ ہوا کچھ لوگ اپنی گاڑیوں میں برف میں پھنس گئے اور جانیں ضائع ہوئیں ، پھر انکی شامت آئی اور انکا تبادلہ کردیا گیا ان دنوں مایوس ہو کر انہوں نے کہا مجھے کام کس نے کرنے دینا ہے دل چاہتا ہے نوکری چھوڑ دوں ۔۔۔ ساجد کیانی کو راجہ لیاقت نے مشورہ دیا تھا کہ مایوس کن حالات میں آپ عوام کے لیے امید کی کرن ہیں اگر آپ حوصلہ ہار دیں گے تو عوام کا کیا بنے گا ؟ ساجد کیانی نے نوکری تو نہ چھوڑی لیکن پولیس کو چھوڑ دیا اور آئی بی میں چلے گئے آج بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔۔۔۔ راجہ لیاقت کے بقول احمد محی الدین کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا ۔وہ عوام کو ریلیف دیتے تھے مصیبت کے ماروں کے زخموں پر مرہم رکھتے تھے ، سوشل میڈیا پر عوام کو بتاتے تھے کہ کوئی ہے جو انکا درد اپنے سینے میں محسوس کرتا ہے ۔ یہ بات حکام بالا سے ہضم نہ ہوئی کہ انکا ایک ماتحت افسر ان سے زیادہ مشہور ہو رہا ہے جب کہ انہیں کوئی جانتا ہی نہیں ۔چنانچہ حکام بالا نے انکے سوشل میڈیا پر ویڈیو ڈالنے پر پابندی لگا دی ۔ راجہ لیاقت کے بقول میں نے انہیں مشورہ دیا کہ آپ کھلی کچہریاں لگائیں ۔ عوام کو ہر ممکن ریلیف بھی دیں لیکن ماتحت افسران کو آف دی کیمرہ اپنے دفتر میں ڈانٹ لیا کریں یا انکی سرزنش کرلیا کریں ۔ احمد محی الدین کا جواب تھا ۔۔ جب یہ پولیس افسران ایس ایچ اوز اور تفتیشی حتیٰ کہ کانسٹیبل سر عام عوام کو گا.لیاں دے سکتے ہیں تھپڑ مار سکتے ہیں انہیں سڑکوں پر گھسیٹ سکتے ہیں تو میں کیمرے کے سامنے انہیں ڈانٹ بھی نہیں سکتا ، اگر انکی پردہ پوشی کی جائے گی تو یہ کالی بھیڑیں شیر بن جائیں گی اگر محکمہ ساتھ دے اور ان کالی بھیڑوں کو بے نقاب کرنے کا سلسلہ جاری رہے تو یہ بھی ظلم کرنے سے پہلے سو بار سوچیں گے ۔۔۔ احمد محی الدین نے اس موقع پر کہا تھا کہ یہ نظام کسی کو کام نہیں کرنے دیتا ، عوام جائے بھاڑ میں کسی کو کیا پرواہ، دل کرتا ہے نوکری چھوڑ دوں اور کہیں دور نکل جاؤں ۔۔ راجہ لیاقت کے بقول انہیں بھی میں نے وہی مشورہ دیا جو ساجد کیانی کو دیا تھا کہ آپ بھی ہمت ہار گئے تو عوام کا کیا ہو گا ۔۔۔ اس پر احمد محی الدین نے کہا تھا چلیں سوچتا ہوں لیکن کام کرنا بہت مشکل بنا دیا گیا ہے ۔۔۔۔ پھر یوں ہوا کہ احمد محی الدین شاندار ملازمت چھوڑ کر گھر چلے گئے ۔۔۔ دعا ہے وہ جہاں بھی رہیں خوش رہیں صحت والی زندگی پائیں کہ انہوں نے ملک و معاشرے کے لیے جو کچھ ہو سکا کیا ۔۔۔(ایس ایس ملک)

One response to “راجہ صاحب میں تنگ آچکا ہوں سوچ رہا ہوں نوکری چھوڑ دوں، یہ بات احمد محی الدین نے ایک۔۔۔۔”

  1. Mohammad Ishtiaq says:

    Great Man 👍

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *