سوچتی تھی کوئی تو وجہ ہے کہ اللہ نے مجھے پیدا کیا ،ایسے ہی تو دنیا میں نہیں آگئی۔۔۔ضلع جہلم کے۔۔۔۔

سوچتی تھی کوئی تو وجہ ہے کہ اللہ نے مجھے پیدا کیا ،ایسے ہی تو دنیا میں نہیں آگئی ۔۔۔۔۔ضلع جہلم کے شہر کھیوڑہ کی ایک باہمت بیٹی مومنہ کی کہانی جسکے ہاتھ کام نہیں کرتے مگر وہ پیر کے انگوٹھوں سے لیپ ٹاپ آپریٹ کرکے گرافک ڈیزائننگ سیکھ رہی ہے ۔۔۔ تین سال کی عمر میں مومنہ کو بخار ہوا اور اسے ایک ایسی بیماری نے اپنی گرفت میں لے لیا جس میں جسم کے پٹھوں نے ساتھ چھوڑ دیا ، مومنہ کے ہاتھ بازو اور زبان پر اس بیماری کا زیادہ اثر ہوا ، اب وہ ایک سپیشل بچی تھی جسکی تعلیم کے کھیوڑہ یا جہلم میں کوئی امکانات نہ تھے نہ یہاں کوئی ایسا سکول یا ادارہ تھا جہاں مومنہ تعلیم حاصل کرتی ۔ مومنہ کے والد ایک کاروباری شخص تھے انہوں نے بیٹی کی خاطر اپنا شہر چھوڑا اور اسلام آباد آکر بس گئے ، یہاں بھی مومنہ کو کسی سکول یا سپیشل بچوں کے ادارے میں تو داخلہ نہ ملا لیکن والدین کی توجہ سے گھر پر اسکی تعلیم کا سلسلہ شروع کردیا گیا ، آج مومنہ 16 سالہ کی ایک بہت پیاری لڑکی ہے اسے گرافک ڈیزائننگ اور کمپیوٹر کی تعلیم حاصل کرنے کا شوق ہے اور وہ اپنا خواب پورا کرنے کی بھرپور کوشش کررہی ہے ، اسکی ہمت جدو جہد اور محنت سے آج ایک زمانہ آشنا ہے ، دعا ہے اللہ تعالیٰ مومنہ کو اپنے مقاصد میں کامیاب کرے اور وہ معاشرہ کی ایک کارآمد اور سرخرو لڑکی ثابت ہو ۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *