
استغفر اللہ۔۔۔12سال تک آئی سی یو میں زیر علاج رہنے والے اس اسد نامی نوجوان کو چند یوم قبل۔۔۔۔
ملتان(نیوز ڈیسک )ٹریفک حادثہ کا شکار ہو کر ملتان کے نشتر ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں 2014 میں علاج کے لیے داخل ہونے والے محمد اسد نے دم توڑ دیا سر کے پچھلے حصے حرام مغز میں چوٹ لگنے سے 12 سال تک اسد بے حس و حرکت نشتر ہسپتال ملتان کے آئی سی یو میں وینٹی لیٹر پر زیر علاج رہا تفصیل کے مطابق جنوری 2014 میں ایک ٹریفک حادثہ کا شکار ہونے والا محمد اسد پہلے ملتان کے نجی ہسپتالوں اور پھر لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج رہا لاہور میں آپریشن کے بعد ملتان واپس گھر منتقل کر دیا گیا جہاں سیڑھیوں سے گرنے کے بعد دوبارہ نشتر ہسپتال ایمرجنسی سے آئی سی یو منتقل کر دیا گیا نشتر ہسپتال کے آئی سی یو انچارج ڈاکٹر شہاب خاکوانی کے مطابق اسد کو مارچ 2014 میں نشتر ہسپتال آئی سی یو میں شفٹ کیا گیا اسد کے لئے کوئی سفارش نہیں تھی بس انسانی ہمدردی کے تحت اس وقت 15 سالہ اسد کو وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا حرام مغز پر چوٹ کے باعث اسد کے ریسپائریٹری مسلز متاثر ہو چکے تھے اسلئے جیسے ہی وینٹی لیٹر سے اتارا جاتا اسد کی سانس اکھڑنے لگتی تھی ویسے وہ ہوش میں رہتا تھا بس جسم کو حرکت نہیں دے پاتا تھا آئی سی یو کا عملہ بارہ سال کے دوران اسے گھر کا فرد تصور کرنے لگ گیا تھا اسکی سالگرہ وارڈ میں منائی جاتی تھی کیک کاٹا جاتا تھا سٹاف نرسز خود ہاتھ سے اسے کھانا کھلاتی تھیں گھر والوں کو اجازت تھی کہ وہ اسد کیلئے فریج لیپ ٹاپ لے کر آئیں وارڈ 8 اے کا ایک کارنر مختص کر دیا گیا تھا وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر مہناز خاکوانی خود اسد کی سالگرہ میں شریک ہوتی تھیں تاہم 31 جولائی 2026 کی صبح تقریبآ 12 سال چار ماہ کے بعد اسد تقریبآ 27 سال کی عمر میں دم توڑ گیا، ماہرین کے مطابق کئی کیسز میں سر کے پچھلے حصے حرام مغز یا گردن کے مہروں پر چوٹ سے جسم پیرالائزڈ رہتا ہے لہذا مریض ہوش میں ہوتے ہوئے بھی حرکت نہیں کر سکتا۔ اسد کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا اور اسے مارچ 2014 میں نشتر ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں داخل کیا گیا جہاں تقریبآ 12 سال چار ماہ زیر علاج رہنے کے بعد اسد نے 31 جولائی کو دم توڑ دیا ،2009 میں بھی بچے کی پیدائش کے دوران انیستھیزیا کی مقدار زیادہ دیے جانے پر فاخرہ نامی خاتون کوما میں چلی گئی تھیں۔ انہیں بھی نشتر ہسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں رکھا گیا، جہاں وہ 15 سال بعد 2024 میں دم توڑ گئی تھیں۔
نشتر ہسپتال ملتان کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) راؤ امجد علی خان نے بتایا کہ محمد اسد کو مارچ 2014 میں نشتر ہسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں داخل کیا گیا تھا۔ ان کے حرام مغز میں چوٹ لگنے کے باعث پورا جسم پیرالائزڈ تھا۔ہوش تو تھا مگر وہ حرکت نہیں کر سکتے تھے۔ انہیں 12 سال تک زیر علاج رکھ کر طبی سہولیات کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے بھی کئی انتظامات کیے گئے تھے ’روزانہ کی بنیاد پر نہ صرف ماہر ڈاکٹر بلکہ ہسپتال کے اعلی حکام بھی ان کی دیکھ بھال کا جائزہ لیتے رہے اور دستیاب وسائل سے بڑھ کر اسد کا خیال رکھنے کی کوشیں کی گئی جبکہ ترجمان راؤ نوشاد نے بتایا کہ اسد اب نشتر ہسپتال کے آئی سی یو کی فیملی کا حصہ تھا جنوری 2014 میں جب اسد کا ٹریفک حادثہ ہوا اسکے بعد ملتان سمیت لاہور کے مختلف نجی ہسپتالوں میں داخل رہا اس دوران آپریشن ہوئے اور گھر بھی منتقل ہو گیا جہاں دوبارہ سیڑھیوں سے گر کر چوٹ آئی جس پر اسے نشتر ہسپتال ایمرجنسی لایا گیا جہاں سے عام مریض کے طور پر اسے نشتر ہسپتال کے آئی سی یو میں منتقل کر دیا گیا جہاں کے ڈاکٹرز نرسز پیرا میڈیکل اسٹاف نے انسانیت کی اعلی مثال قائم کرتے ہوئے اسد کا 12 سال علاج کیا تاہم 31 جولائی 2026 کو اسد خالق حقیقی سے جا ملا۔
Leave a Reply