
ضعیف باپ کے کان میں ابھی یہ آخری الفاظ گونج ہی رہے تھے کہ ساؤتھ افریقہ کی تاریک سڑک پر۔۔۔
“ابو! ہم دکان بند کر کے گھر نکل رہے ہیں، جلد ہی پاکستان آکر ملیں گے…” منڈی بہاؤالدین کے ضعیف باپ کے کان میں ابھی یہ آخری الفاظ گونج ہی رہے تھے کہ ساؤتھ افریقہ کی تاریک سڑک پر گولیوں کی تڑتڑاہٹ نے چار زندگیوں کا چراغ ہمیشہ کے لیے بجھا دیا۔
یہ دل دہلا دینے والا خونی واقعہ ساؤتھ افریقہ میں پیش آیا، جہاں منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھنے والے دو جوان بھائی، ساجد احمد اور ظفر احمد سالوں سے پردیس میں رزقِ حلال کے لیے خون پسینہ بہا رہے تھے۔ ان کے ساتھ دو پاکستانی ملازم بھی تھے جنہیں وہ ملازم نہیں بلکہ سگے بھائیوں کی طرح رکھتے تھے۔
روز کی طرح چاروں دکان بند کر کے جیسے ہی باہر نکلے، ڈ۔ا۔ک۔و۔ؤ۔ں کے ایک ب۔ے ر۔ح۔م گروہ نے انہیں گھیر لیا۔ مقصد صرف ایک تھا… دن بھر کی محنت سے کمائے گئے چند روپے۔
ظفر نے ہاتھ جوڑ کر دن بھر کی تمام کمائی ان کے سامنے پھینک دی اور کہا: “یہ سارے پیسے لے لو، بس ہمیں زندہ چھوڑ دو… ہمارے بوڑھے ماں باپ ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔ لیکن ان ل۔و۔ٹ۔ی۔ر۔و۔ں کے دل میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ انہوں نے چند ٹکوّں کی خاطر چاروں کو انتہائی ب۔ے د۔ر۔د۔ی سے ق۔ت۔ل کر دیا اور خون میں لت پت ل۔ا۔ش۔ی۔ں سڑک پر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
جس گھر میں بچوں کی واپسی اور خوشیوں کی تیاریاں ہو رہی تھیں، وہاں ایک ساتھ چار جنازوں کی خبر پہنچی تو بوڑھے ماں باپ پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ ساؤتھ افریقہ کی سڑکیں نہ جانے اور کتنے پاکستانیوں کا خون پییں گی… جہاں چند پیسوں کے لیے کسی کی گود اجاڑ دی جاتی ہے اور کسی باپ کا آخری سہارا چھین لیا جاتا ہے۔
Leave a Reply