
پاکستان کے مشہور اینکر تجزیہ کار آفتاب اقبال کی سابقہ اہلیہ ثمن شیخ کے ساتھ۔۔۔۔
ثمن شیخ کے آفتاب اقبال سے متعلق سنگین دعوے سامنے آ گئے
آپ اس معاملے پر سامنے آنے والے دعوؤں کو کیسے دیکھتے ہیں؟
(شو بز رپورٹر | میڈیا ایکسپریس لاہور) پاکستانی گلوکارہ اور آفتاب اقبال کی سابقہ اہلیہ ثمن شیخ نے حالیہ انٹرویو میں معروف اینکر اور پروڈیوسر آفتاب اقبال اور ان کے شو سے متعلق متعدد سنگین الزامات اور ذاتی تجربات بیان کیے ہیں۔ انٹرویو کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے بیانات پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ تاہم ان دعوؤں پر آفتاب اقبال یا ان کی ٹیم کا مؤقف اس وقت تک سامنے نہیں آیا۔
ثمن شیخ نے الزام عائد کیا کہ شو کے دوران فنکاروں کو طویل وقت تک سیٹ پر انتظار کروایا جاتا تھا، بعض اوقات انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا مناسب موقع بھی نہیں ملتا تھا اور ریکارڈنگ کے باوجود ان کے کئی حصے نشر نہیں کیے جاتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ گھنٹوں سیٹ پر موجود رہیں لیکن ان کے گائے گئے گانے یا گفتگو کو آن ایئر نہیں کیا گیا، جس پر انہیں شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ شو کے ماحول میں بعض فنکاروں کی عزتِ نفس مجروح کی جاتی تھی اور امتیازی سلوک روا رکھا جاتا تھا۔ ثمن شیخ کے مطابق انہیں طویل اوقات تک اپنے موبائل فون سے بھی دور رکھا گیا، جس کے باعث وہ اپنے اہل خانہ سے رابطے میں نہ رہ سکیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ اسی دوران خاندان میں ایک قریبی عزیز کے انتقال کی خبر بروقت نہ ملنے کی وجہ سے وہ جنازے میں بھی شریک نہ ہو سکیں۔
ثمن شیخ نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ انہوں نے ان معاملات پر احتجاج کیا اور انتظامیہ سے وضاحت طلب کی، تاہم ان کے بقول انہیں تسلی بخش جواب نہیں ملا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی ماحول کی وجہ سے انہوں نے مذکورہ شو اور چینل پر پرفارم کرنا چھوڑ دیا۔ انٹرویو میں انہوں نے بعض دیگر فنکاروں کے نام بھی لیے اور کہا کہ ان کے مطابق وہ بھی ایسے ہی مسائل کا سامنا کر چکے ہیں، تاہم ان افراد کی جانب سے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
یہ تمام بیانات ثمن شیخ کے ذاتی دعووں پر مبنی ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ خبر کی اشاعت تک آفتاب اقبال یا ان کے نمائندوں کی جانب سے ان الزامات پر کوئی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اگر ان کا مؤقف سامنے آتا ہے تو اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جائے گا۔
شوبز انڈسٹری میں کام کے ماحول، فنکاروں کے حقوق اور پیشہ ورانہ رویوں سے متعلق اس نوعیت کے الزامات عوامی دلچسپی کا باعث بنتے ہیں۔ ایسے معاملات میں تمام فریقین کا مؤقف سامنے آنا صحافتی توازن کے لیے ضروری ہوتا ہے، جبکہ حقائق کی تصدیق کے بعد ہی کسی حتمی نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے۔
یہ خبر ثمن شیخ کے حالیہ انٹرویو میں کیے گئے دعوؤں پر مبنی ہے۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی اور خبر کی اشاعت تک آفتاب اقبال کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔
Leave a Reply