
اب لوگ سی سی ڈی زندہ باد کے نعرے نہ لگائیں تو اور کیا کریں ۔۔۔؟؟ ضلع جھنگ کا معروف نوجوان ڈاکٹر
اب لوگ سی سی ڈی زندہ باد کے نعرے نہ لگائیں تو اور کیا کریں ۔۔۔؟؟ ضلع جھنگ کے علاقہ شور کوٹ کا معروف نوجوان ڈاکٹر ناجائز تعلقات کے شبہ میں ق۔ت۔ل ۔۔۔ شوہر پولیس والا ،بیوی لیڈی ڈاکٹر ۔۔
دونوں کے جھگڑے میں ڈاکٹر عمر کیسے جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ؟ تمام تفصٰیلات ۔۔۔۔ شورکوٹ کے رہائشی ایک شریف اور معزز خاندان کے 2 بیٹے اور پانچ بیٹیاں تھیں ، محمد عمر دو بھائیوں میں سے ایک تھا انتہائی لائق اور والدین کا فرمانبردار بیٹا ، اسے ڈاکٹر بننے کا شوق تھا والدین نے بھی خوب خرچہ کیا اپنا پیٹ کاٹا گھر کے اخراجات کم کردیے لیکن بیٹے کو پڑھایا لکھایا اور محمد عمر ڈاکٹر عمر بن گیا ، یہ 2023 کا واقعہ ہے شور کوٹ کے ایک ہسپتال میں ڈاکٹر عمر کی ڈیوٹی تھی ، ایک ساتھی لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ ڈاکٹر عمر کی اچھی بات چیت بن گئی جو کہ اکثر ایک جگہ کام کرنے والوں کے درمیان بن جاتی ہے ۔ لیڈی ڈاکٹر اپنے ساتھی ڈاکٹر عمر کے ساتھ دکھ تکلیف اور گھر کے مسائل شیئر کرنے لگی ۔ باتوں باتوں میں ایک روز لیڈی ڈاکٹر نے ڈاکٹر عمر سے کہا مجھے کسی وکیل کا بتاؤ جو مجھے میرے شوہر سے خلع لے دے ، میں اسکے ساتھ زندگی سے تنگ آچکی ہوں ایسا نہ ہو کسی روز خود۔ کشی کر لوں بہتر ہے میں اس سے علیحدہ ہو جاؤں ۔۔۔ ڈاکٹر عمر نے پہلے تو ساتھی لیڈی ڈاکٹر کو سمجھایا کہ گھر اور رشتے آسانی سے نہیں بنتے اور نہ اتنی جلدی توڑے جاتے ہیں ، لیکن خاتون اپنے فیصلے سے پیچھے نہ ہٹی اور آئے روز اس بات کا تذکرہ کرنے لگی تو ڈاکٹر عمر نے ایک روز اسے اپنے ایک دوست وکیل سے ملوا دیا جس نے چند روز میں خلع کا کیس دائر کر دیا ، ایک دو بار ڈاکٹر عمر بھی لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ عدالت اور کچہری گیا یہی اسکا جرم تھا ۔ لیڈی ڈاکٹر کو عدالت نے خلع کی ڈگری جاری کردی تو خاتون ڈاکٹر کےشوہر نے سمجھ لیا کہ ڈاکٹر عمر کے اسکی بیوی کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں اسی وجہ سے اس نے خلع لی ہے ۔
چنانچہ پولیس اہلکار شوہر نے خوفناک پلان بنایا اس نے اپنے تین ساتھی پولیس اہلکار ساتھ ملائے ایک روز ڈاکٹر عمر کو اسکے کلینک سے اغ۔وا کر لیا اور کسی خفیہ جگہ پر اسے تش۔دد کا نشانہ بناتے رہے بعد میں ڈاکٹر عمر کو ق۔ت۔ل کرکے اسکی لا۔ش ایک بوری میں بند کی اور ایک بڑی نہر میں پھینک دیا گیا ، ایک دو روز گزرے اور ڈاکٹر عمر واپس گھر نہ پہنچے تو والدین نے اسکی گمشدگی اور اغ۔وا کا پرچہ درج کروا دیا ، مگر ڈاکٹر عمر کا کچھ پتہ نہ چلا دن ہفتوں میں بدلے تو ڈاکٹرز نے ہڑتال کردی اور ڈاکٹر عمر کا سراغ لگانے کے لیے پولیس پر دباؤ ڈالا ، اس پر پولیس نے کال ریکارڈز اور سی سی ٹی وی ویڈیوز کی روشنی میں لیڈی ڈاکٹر کے پولیس ملازم شوہر کو گرفتار کر لیا جس نے تفتیش کے دوران ڈاکٹر عمر کے ق۔ت۔ل کا اعتراف کر لیا اور ساتھی ملزمان کے نام بھی بتا دیے ، شرجیل الرحمان نامی مرکزی ملزم نے وجہ عناد یہ بتائی کہ ڈاکٹر عمر کے اسکی سابقہ بیوی سے ناجائز تعلقات تھے ۔۔۔ شرجیل کےساتھی ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا گیا نشاندہی کے بعد لا۔ش بھی برآمد کر لی گئی ملزمان کو چالان کرکے جیل بھیج دیا گیا ، تاریخوں پر تاریخیں ہوتی رہیں ملزمان بھی ضمانت کی درخواستیں دیتے رہے مق۔تول کی فیملی کو انصاف تو نہ ملا لیکن عدالت نے کچھ روز قبل ملزمان کو ضمانت پر رہا کردیا ہے ، جو اب مق۔تول ڈاکٹر عمر کی فیملی کو دھم۔کیاں دے رہے ہیں کہ ہمارے ساتھ صلح کرو اور کیس ختم کرو ورنہ ہم تمہارے دوسرے بیٹے کو مار ڈالیں گی اور تمہاری بیٹیوں کو اٹھا کر لے جائیں گے اور تم ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکو گے ۔۔۔۔
Leave a Reply