
کیا چوتیا عوام ہے؟ یہ کراچی کے گل پلازہ میں پیش آنے والا آتشزدگی کا واقعہ بلاشبہ انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا ہے مگر کیا آپکو معلوم ہے کہ۔۔۔۔
کیا چوتیا عوام ہے؟ یہ کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں پیش آنے والا آتشزدگی کا واقعہ بلاشبہ انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا ہے۔ انسانی جانوں، کاروبار اور قیمتی املاک کا نقصان کسی بھی صورت میں معمولی بات نہیں ہوتی۔ مگر اس واقعے کے بعد حکومت کی جانب سے یہ اعلان کہ متاثرہ افراد کے نقصان کا ازالہ سرکاری طور پر کیا جائے گا، ایک سنجیدہ اور قابلِ غور سوال کو جنم دیتا ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ اور امیر ترین ممالک میں حکومتیں اس نوعیت کے نقصانات کی براہِ راست مالی تلافی نہیں کرتیں۔ وہاں ہر شہری اور ہر کاروباری شخص کے لیے انشورنس کرانا لازمی سمجھا جاتا ہے۔ آگ، سیلاب، زلزلہ یا کسی بھی غیر متوقع حادثے کی صورت میں نقصان کی بھرپائی انشورنس کمپنی کرتی ہے، جس کے لیے ماہانہ قسط خود متاثرہ فرد اپنی جیب سے ادا کرتا ہے۔ ریاست کا کام نظام بنانا ہوتا ہے، نہ کہ ہر نقصان کی مالی ذمہ داری اٹھانا۔
مگر پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں سیلاب، آگ یا کسی بھی حادثے کے بعد حکومت خود سے اعلان کر دیتی ہے کہ نقصان کا ازالہ کیا جائے گا۔ یہ رویہ وقتی طور پر عوام کو خوش تو کر دیتا ہے، مگر طویل مدت میں یہ قومی معیشت، ٹیکس نظام اور عوامی شعور کے لیے نقصان دہ ہے۔
پاکستان میں بدقسمتی سے ٹیکس دینے کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے۔ لوگ انکم ٹیکس نہیں دیتے، بجلی کا بل ادا کرنا بھی اکثر ایک “احسان” سمجھا جاتا ہے، اور ریاستی نظام کو چلانے میں اپنی ذمہ داری کا احساس بہت کم ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ عوام کو کبھی سنجیدگی سے یہ نہیں بتایا گیا کہ ٹیکس دینا ہر شہری کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ آمدن پر ٹیکس، استعمال پر ٹیکس، اور تقریباً ہر چیز پر ٹیکس دینا دنیا کے تمام مہذب ممالک میں ایک معمول کی بات ہے۔
ریاست کا کام صرف ٹیکس وصول کرنا نہیں، بلکہ عوام کو یہ شعور دینا بھی ہے کہ ٹیکس کیوں ضروری ہیں، ان کا استعمال کہاں ہوتا ہے، اور شہری و ریاست کے درمیان یہ ایک باہمی معاہدہ ہے۔ مگر پاکستان میں نہ عوام کو یہ سکھایا گیا، نہ انشورنس جیسے تحفظاتی نظام کو فروغ دیا گیا، اور نہ ہی مالی ذمہ داری کا کلچر پروان چڑھا۔
نتیجہ یہ ہے کہ ہر حادثے کے بعد حکومت سے امداد کی توقع کی جاتی ہے، جیسے ریاست کوئی خیراتی ادارہ ہو۔ یہ “ازالہ” والا تماشہ اب بند ہونا چاہیے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنے نظام کو جدید اور منظم کرے، انشورنس کو فروغ دے، اور عوام کو دوسرے ممالک کی طرح ذمہ دار شہری بنائے۔
عوام کو یہ سکھانا ہوگا کہ ریاست پر بوجھ بننے کے بجائے ریاست کے ساتھ مل کر نظام کو چلانا ہے۔ جب تک ذمہ داری، قانون کی پابندی، ٹیکس کی ادائیگی اور ذاتی تحفظ (جیسے انشورنس) کا شعور پیدا نہیں ہوگا، ہم ترقی یافتہ اقوام کی صف میں شامل نہیں ہو سکتے۔
قومیں جذبات سے نہیں، نظم و ضبط، قانون اور ذمہ داری سے بنتی ہیں۔
Leave a Reply