
کہا جاتا ہے کہ جب جنرل ضیاءالحق پاکستان کے صدر تھے اسوقت ایوانِ صدر میں کسی غیر ملکی وفد نے دورہ کیا تو۔۔۔
کہا جاتا ہے کہ جب جنرل ضیاءالحق پاکستان کے صدر تھے تو وہ ذاتی زندگی میں انتہائی سادہ طرزِ حیات اختیار کیے ہوئے تھے۔ ایوانِ صدر میں رہنے کے باوجود وہ فضول اخراجات سے سخت پرہیز کرتے تھے۔ ایک مرتبہ کسی غیر ملکی وفد نے دورہ کیا تو ضیاءالحق نے انہیں نہایت سادہ سا کھانا پیش کیا۔ وفد کو حیرت ہوئی کہ ایک ملک کے صدر ہونے کے باوجود ان کے دسترخوان پر کوئی شاہانہ اہتمام نہیں تھا۔ ضیاءالحق نے مسکرا کر کہا کہ “قوم کا پیسہ امانت ہے، اس پر عیاشی میرا حق نہیں۔”
اسی طرح یہ بھی روایت ہے کہ وہ عام سا لباس پہنتے، خود اپنی فائلیں اٹھاتے اور غیر ضروری پروٹوکول کو ناپسند کرتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ حکمران اگر سادہ زندگی گزارے تو عوام کے دکھ درد کو بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے۔
یہ واقعات ان کی شخصیت کے اس پہلو کو ظاہر کرتے ہیں کہ اقتدار کے باوجود انہوں نے ذاتی سادگی اور کفایت شعاری کو ترجیح دی۔
یہ بالکل غلط ہے ایک بار اس کے مہمانوں نے آموں کی تعریف کی تو فوری طور پر ایک طیارہ صرف آم لینے کے لئے بہاولپور گیا ایسی بھی کئی کہانیان بیان کی جاتی ہیں اور جس کو سادگی پسند ہو اقتدار پر چھاپہ نہیں مارتے