
کھل کھیلنے کی شرمناک خواہش نے 3 ہنستے بستے گھر کیسے اجاڑے، 2 سال قبل ایک بیوہ عورت اور مرد کی۔۔۔۔
کھل کھیلنے کی شرمناک خواہش نے 3 ہنستے بستے گھر کیسے اجاڑے : 2 سال قبل ایک بیوہ عورت اور مرد کی ہوس کے نتیجہ میں لاہور میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ : تفصیلات کے مطابق سابق ایس پی فرحت عباس کے ق۔ت۔ل میں ملوث ماسٹر مائنڈ بیوہ بھابی حرا بی بی اور اس کے سکیورٹی گارڈ عارف آفریدی کو پولیس نے وقوعہ کے چند روز بعد ہی گرفتار کر لیا تھا ۔
پولیس تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ فرحت عباس کے ق۔ت۔ل میں اس کی بھابی ملوث ہے ،مق۔تول اپنی بیوہ بھابی کوگارڈ رکھنے سے منع کرتا تھا کیونکہ وہ ایک ہی گھر میں رہتے تھے اور گارڈ کی ضرورت نہ تھی ، جبکہ ساتھی ملزم نوجوان عارف آفریدی سے ملزمہ حرا عرف ثنا کے شوہر کی زندگی سے ہی تعلقات تھے ، جب ملزمہ کے شوہر کا انتقال ہوا تو فرحت عباس نے انکے گارڈ کو نوکری سے فارغ کردیا تھا اور وہ واپس پشاور چلا گیا تھا ۔ لیکن حرا اور ملزم کے تعلقات میں رکاوٹ بن گئی دونوں ایک دوسرے سے رابطے میں رہے جب مق۔تول پولیس افسر نے اپنی بھابھی کو منع کیا تو اس نے بجائے انکے مشورے پر عمل کرنے کے انہیں راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ، اس نے پشاور سے ملزم کو بلایا ، اسے اپنے گھر کے پاس ایک ہوٹل میں ٹھہرایا ، وہاں جا کر اس سے ملتی رہی اور واردات کی پلاننگ کرتی رہی پھر اسے ایک موٹرسائیکل بھی ارینج کرکے دیا تاکہ جیسے ہی موقع ملے گا وہ اسے بتائے گی اور عارف آفریدی ہوٹل سے انکے گھر آکر واردات کرکے فرار ہو جائے گا وقوعہ کے روز پولیس افسر گھر کے باہر کھڑے ہوکر خود اپنی گاڑی دھو رہا تھا کہ ملزمہ حرا نے ساتھی ملزم عارف آفریدی کو فون پر اطلاع دی کہ فوری آجاؤ ملزم چند منٹ میں گھر کے باہر گلی میں آیا اور پولیس افسر کو موت کے گھاٹ اتار کر فرار ہو گیا ، بعد میں پولیس نے موبائل ریکارڈ اور جیو فینسگ کی تو ملزمہ اور ملزم کے درمیان مسلسل رابطوں نے سارا راز اگل دیا ، پہلے ملزمہ حنا کو گرفتار کیا گیا اور پھر جدید ذرائع سے ملزم کی لوکیشن ٹریس کرکے اسے بھی گرفتار کیا گیا ، پولیس افسر کا ق۔ت۔ل کیس اب بھی عدالت میں زیر سماعت ہیں جبکہ ملزمان جیل میں ہیں ۔۔۔۔۔
Leave a Reply