
شادی نہ کرنے کامیرا فیصلہ حالات کا تقاضا ہےجو ذمہ داری مجھے میرا بھائی، والد اور تایا ابو۔۔۔
شادی نہ کرنے کامیرا فیصلہ حالات کا تقاضا ہے ، جو ذمہ داری مجھے میرا بھائی، والد اور تایا ابو دے گئے ہیں وہ نبھاؤں یا شادی کرکے گھر بیٹھ جاؤں ؟ میں نے یہی مناسب سمجھا کہ اپنے بھائی اور بزرگوں کا مشن پورا کروں ،جب اپنا مقصد حاصل کر لوں گی تو شادی بھی کر لونگی۔
عورت ہو کر بند۔وق اٹھانے اور دشمنوں کا سامنا کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا کہ دشمن میرے خاندان کا نام مٹانا چاہتے تھے ، میرے سامنے ایک آپشن یہ تھا کہ دبک کر گھر بیٹھ جاتی ، لیکن میں نے اپنے والد ، تایا ابو اور بھائی کے مشن کو پورا کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، میں دشمن دار خاندان کی بیٹی ہوں ، اپنے گھر کی محافظ اور علاقے کے غریبوں کی محافظ ہوں ، اگر بند۔وق نہ رکھوں تو کیا ڈنڈے سوٹے لے کر بیٹھ جاؤں ۔۔۔ بند۔وق اپنے حق کے لیے رکھتی ہوں بدمعاشی اور غلط کاموں کے لیے نہیں ، اس پر بھی اگر کسی کو اعتراض ہے تو ہوتا رہے ، جو حالات میرے ہیں اللہ کسی مرد کو بھی ان میں نہ ڈالے ، تین دفعہ مجھ پر قا۔تلانہ حم۔لے ہو چکے ہیں ، مجھ پر درجنوں جھوٹے مقدمے بنوائے گئے ، اللہ نے ہمیشہ مجھے سرخرو کیا آگے بھی اللہ اپنا کرم فرمائے گا، ہماری امیدوں کا مرکز اور محور وہ بچہ ہے جو عبدالرحمان بندیشہ اور میرا بھانجا ہے ، شکل و صورت میں بھی وہ عبدالرحمان جیسا ہے اور انشااللہ بڑا ہو کر وہی ہمارا بھائی بھی بنے گا اور بیٹا بھی ۔۔۔۔۔۔
Leave a Reply