
جیدا ڈوگر کی پھا نسی سے پہلے آخری ملاقات کا سبق آموز واقعہ : لاہور کینٹ کے نواح کے دشمن دار جیدا ڈوگر نے۔۔۔
لاہور (نیوز ڈیسک)جیدا ڈوگر کی پھا۔نسی سے پہلے آخری ملاقات کا سبق آموز واقعہ : لاہور کینٹ کے نواح کے دشمن دار جیدا ڈوگر نے 1985 میں اپنے رشتہ دار خاندان مند ڈوگر کے بیٹے کو چوہدراہٹ اور نمبرداری کے چکر میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔
اپنے خاندان بھائیوں اور عورتوں نے واہ واہ کی اور بیٹے کو خاندان کا بہادرسپوت قرار دیا تو جیدا ڈوگر کا حوصلہ بڑھ گیا مگر جلد یہ گرفتار ہوا اور جوڈیشل کرکے کیمپ جیل میں بند کردیا گیا ، کچھ عرصہ بعد جیدا ڈوگر جعلی روبکار پر کیمپ جیل سے رہا ہو گیا اور اس نے ڈ۔کیتی اور لوٹ مار اور یاروں دوستوں کی دشمنیوں میں ق۔ت۔ل کرنا شروع کردیے انہی مفروری کے دنوں میں اس نے اپنے مخالف مند گروپ کے دوسرے دو بیٹوں کو بھی ق۔ت۔ل کردیا اسکے علاوہ گلبرگ کے رہائشی ایک شخص جس نے اسکے والد سے بدتمیری کی تھی اسکو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا 1987 میں جیدا ڈوگر کو پہلے 302 کیس میں سزا۔ئے موت ہوئی مگر دیگر مقدمات باقی تھے ، 1988 میں بینظیر بھٹو کی حکومت آئی تو جیدا ڈوگر سمیت سزا۔ئے موت کے قیدیوں کی سزا عمر قید میں بدل دی گئی مگر جیدا پر دیگر مقدمات بھی تھے اور وہ عرصہ 27 سال جیل میں رہا۔
اس دوران سزائے موت پر عملدرآمد پھر شروع ہو گیا ۔کہا جاتا ہے جیل کی قید کے دنوں میں 20 سال جیدا ڈوگر بیڑیوں میں جکڑا رہا اور آخر ایک پٹھان جیل سپرٹنڈنٹ نے اسکے حال پر ترس کھا کر اسکی بیڑیاں کھلوا دیں اور کہا اگر یہ اڑ گیا تو میری ذمہ داری ۔۔۔۔ 2013 میں جس روز جیدا ڈوگر کو سزا۔ئے موت دی جانی تھی اس سے ایک روز پہلے اسکے گھر والے آخری ملاقات کے لیے آئے اور جیدا کو دیکھ کر رونا شروع کر دیا خواتین بین ڈالنے لگیں تو جیدا ڈوگر نے انہیں سختی سے چپ کرا دیا اور بولا جب میں مخالفوں کو ق۔ت۔ل کرتا تھا تو تم خوش ہوتے تھے اور آج میں مرنے لگا ہوں تو بین ڈال رہے ہو اگر اس وقت بھی روتے تو آج میں اس حال میں نہ ہوتا ، ساتھ ہی جیدا ڈوگر نے کہا میرا جیل میں بڑا نام ہے اسے خراب نہ کرو مجھے مل لو اور جاؤ یہاں سے ۔۔۔۔کہتے ہیں دوسرے روز جب جیدا ڈوگر کوسزا ہونے لگی تو جیدا اپنے پیروں پر چل کر پھا۔نسی گھاٹ پر گیا ورنہ اس وقت تک دیگر لوگوں کو پکڑ کر یا کاندھوں پر پھا۔نسی گھاٹ لے جایا جاتا تھا ۔۔۔
Leave a Reply