
اگر آپ کو جلدی نہ ہو تو دو منٹ کے لیے رک جاؤں؟” رکشا ڈرائیور نے اجازت مانگی۔ مجھے۔۔۔
اگر آپ کو جلدی نہ ہو تو دو منٹ کے لیے رک جاؤں؟”
رکشا ڈرائیور نے اجازت مانگی۔ مجھے جلدی نہیں تھی۔
اس نے ایک ریسٹورنٹ کے سامنے رکشا روکا۔
ریسٹورنٹ کے باہر بہت سے غریب لوگ انتظار میں بیٹھے تھے۔
رکشا والا کاؤنٹر پر گیا اور کچھ پیسے ادا کیے۔
قطار میں بیٹھے ایک شخص کو بریانی مل گئی۔
رکشا دوباره چلا تو میں نے کہا : تم تو خود غریب آدمی ہو، یہاں کیوں پیسے دیے؟
اس نے کہا : رکشا چلانے سے پہلے میں مزدوری کرتا تھا۔
جس دن دہاڑی نہیں لگتی تھی، یہاں بیٹھنے سے رزق ملتا تھا۔
انہی دنوں ایک بابا ،ملا ، جب مزدوری ملتی ان بابا کے کہنے پر میں یہاں آ کر کسی کو بریانی کھلاتا، پھر پتا چلا کہ
“جو رزق بانٹتا ہے، اسے یہاں قطار میں بیٹھنا نہیں پڑتا”
Leave a Reply