سال 1980 کی دہائی کے آخر میں افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں اور کٹھن حالات میں جہاں وسائل ناپید تھے، وہیں ضرورت نے ایجاد کو جنم دیا۔ انہی دنوں ایک ذہین اور باہمت افغان نے ایک انوکھا کارنامہ انجام دیا — اس نے ایک تباہ شدہ سوویت ملٹری ہیلی کاپٹر مل می-8 کا دھانچہ لیا، اور اسے ایک طاقتور کماز ٹرک کے چیسز پر جوڑ دیا۔
یوں وجود میں آیا ایک ایسا “بس نما ہائبرڈ” جو کسی سائنس فکشن فلم یا قیامت کے بعد کی دنیا سے آیا ہوا لگتا تھا — لیکن اس کی حقیقت بہت زیادہ زمینی اور قابل قدر تھی۔
ہیلی کاپٹر کا گول مٹول اور دلکش جسم اسے ایک مستقبل نما روپ دیتا، جبکہ کماذ کا سخت جان فریم اور انجن اس مشین کو افغانستان کے کٹھن راستوں، پہاڑی دروں اور خاک آلود سڑکوں پر رواں دواں رکھتا۔
یہ نہ صرف ایک تخلیقی سفری حل تھا، بلکہ ایک علامت تھی اُس قوم کی بقا، خود انحصاری اور بے مثال اختراعی صلاحیت کی۔
جہاں عام گاڑیاں دستیاب نہ تھیں، وہاں یہ ہیلی-بس میدانِ جنگ کے پرزوں سے ایک عوامی سواری میں ڈھل گئی۔
یہ صرف ایک گاڑی نہیں تھی — یہ امید، جدوجہد، اور انسانی ذہانت کی گواہی تھی۔
جنگوں سے تباہ شدہ دنیا میں بھی جب دلوں میں ہنر ہو، تو لوہے کے پرزے بھی زندگی بن جاتے ہیں۔

Leave a Reply