
ٹرین کے ایک پورے ڈبے میں بارات بیٹھی تھی. ایک آدمی کو جب کہیں جگہ نہ ملی تو وہ بھی ٹرین کے اسی ڈبے میں آ کے بیٹھ گیا
ٹرین کے ایک پورے ڈبے میں بارات بیٹھی تھی. ایک آدمی کو جب کہیں جگہ نہ ملی تو وہ بھی ٹرین کے اسی ڈبے میں آ کے بیٹھ گیا. ٹرین چل پڑی. کچھ دیر بعد باراتیوں نے ایک ڈبہ کھولا اور اس میں سے میٹھے چاول نکالے اور ساری بارات کو دیے. لیکن اس آدمی کو نہ دیے. وہ چپ کر کے بیٹھا رہا کہ کوئی بات نہیں۔
شاید انہوں نے مجھے دیکھا نہیں. تھوڑی دیر بعد باراتیوں نے ایک اور ڈبہ کھولا اس میں سے برفی نکالی اور ساری بارات میں تقسیم کردی لیکن اس آدمی کو نہ دی. اسے بہت غصہ آیا کہ ایک میں ہی باہر کا آدمی ہوں مجھے بھی دے دیتے تو کیا تھا. لیکن وہ ضبط کر کے بیٹھا رہا. باراتیوں نے لڈو نکالے اور سب کو ایک ایک لڈو دیا۔
لیکن اس آدمی کو نظر انداز کردیا. آدمی کو بہت غصہ آیا اور وہ کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا۔
“اللہ کرے اس ڈبے پر بجلی گرے اور تم سب مرجاؤ “۔
باراتیوں میں سے ایک سیانا آدمی کھڑا ہوا اور بولا.
“اگر اس ڈبے پر بجلی گری تو تم کیسے بچو گے؟”
اس آدمی نے جواب دیا۔
“جیسے چاول، برفی اور لڈو کی دفعہ بچ گیا تھا.” ۔
Leave a Reply