
ایک مرتبہ بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی بڑھ رہی تھی۔ اُس وقت بھارتی میڈیا لگاتار دعویٰ کر رہا تھا کہ۔۔۔
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ایک مرتبہ بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی بڑھ رہی تھی۔ اُس وقت بھارتی میڈیا لگاتار دعویٰ کر رہا تھا کہ بھارتی فوج کسی بڑے قدم کی تیاری کر رہی ہے۔ اسی دوران ایک خبر پاکستان کے چینلز پر چلی کہ جنرل پرویز مشرف نے رات کے وقت بغیر کسی پروٹوکول کے لائن آف کنٹرول کے قریب اگلے مورچوں کا دورہ کیا ہے۔
مشرف کا یہ اقدام پوری فوج کے لیے حوصلہ تھا، لیکن بھارت میں اسے ایک خطرناک علامت سمجھا گیا۔ بھارتی دفاعی مبصرین نے فوراً کہنا شروع کر دیا کہ “جب کوئی آرمی چیف رات کے وقت اگلے مورچوں پر پہنچ جائے، تو یہ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ وہ ہر قسم کے جواب کے لیے تیار ہے۔”
بھارتی چینلز نے اس خبر کو بریکنگ کے طور پر دکھایا:
“مشرف فرنٹ لائن پر، پاکستان کسی بڑی حرکت کے لیے تیار؟”
پورا بھارتی میڈیا اگلے چوبیس گھنٹے اسی خوف میں مبتلا رہا کہ شاید پاکستان فوری ردعمل دینے والا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں نے تو یہ بھی کہا کہ جب بھی مشرف خود بارڈرز پر جاتے ہیں، اگلے چند دن حالات مزید حساس ہو جاتے ہیں۔
بھارت میں یہ تاثر پھیل گیا تھا کہ مشرف صرف فوج کے سربراہ نہیں بلکہ میدانِ جنگ کا آدمی ہیں—وہ فوجی فیصلے میزوں پر نہیں، محاذ کے قریب کھڑے ہو کر کرتے ہیں۔ یہی انداز اُنہیں بھارت کے لیے غیر متوقع اور دباؤ ڈالنے والی شخصیت بناتا تھا۔
اس واقعے کے بعد کئی بھارتی اخباروں نے لکھا کہ
“مشرف غیر متوقع ہیں… اور یہی اُن کا سب سے بڑا خطرناک پہلو ہے۔”
یہی وجہ تھی کہ اُن کے دور میں بھارت ہر بار قدم سوچ سمجھ کر رکھتا تھا، کیونکہ سامنے ایک ایسا کمانڈر تھا جو لمحوں میں فیصلہ بدل سکتا تھا۔
He was equiped with all sorts of abilities.