
فرعونیت کی انتہا ہوگئی۔۔۔ نہ میں افغانی ہوں اور نہ اسرائیلی تو پھر میرے ساتھ یہ۔۔۔
فرعونیت کی انتہا : نہ میں افغانی ہوں اور نہ اسرائیلی تو پھر میرے ساتھ یہ سلوک کیوں ؟ ایک پاکستانی شہری نے اپنے ساتھ اسلام آباد ائیرپورٹ پر پیش آٰیا واقعہ بیان کردیا ۔۔ کچھ روز قبل اس شہری کی اسلام آباد سے ساؤتھ افریقہ صبح ساڑھے دس بجے کی فلائٹ تھی ، یہ صبح سات بجے ائیرپورٹ پر پہنچ گئے ، انکے کاغذات دیکھے گئے سامان جمع کیا گیا اور بورڈنگ کارڈ بھی جاری کردیا گیا۔
جب یہ امیگریشن کاؤنٹر پر پہنے تو وہاں موجود آفیسر نے پاسپورٹ دیکھا اور انہیں ساتھ والے کاؤنٹر پر بھیج دیا ۔ یہاں انہیں آخری کاؤنٹر پر جانے کو کہا گیا ۔ جب یہ بھائی آخری کاؤنٹر پر پہنچے تو وہاں 3 مرد اور 2 خواتین اہلکار وافسران موجود تھے جنہوں نے انکشاف کیا کہ آپ جہاز پر سوار نہیں ہو سکتے آپ کو آف لوڈ کیا جارہا ہے ۔ یہ سن کر اس بھائی نے تحمل سے کہا جناب کاغذات دیکھیں تسلی کریں ۔ ایسے میری شکل دیکھ کر مجھے آف لوڈ نہ کریں ۔۔۔ مگر ان افسران کے بقول “ہم نے کہہ دیا ناں کہ آپ جہاز پر سوار نہیں ہو سکتے “۔۔۔۔ اس شہری نے ہر وضاحت دی : میڈم میرے تمام کاغذات جینیوئن ہیں ، ہوٹل بکنگ کنفرم ہے ، ویزہ میں نے ایمیسی سے لیا ہے ۔ شو منی ڈاکومنٹ آپ کے سامنے ہے ، ٹکٹ میرے پاس ہے ، کوئی چیز کم ہے تو بتائیں کوئی چیز غلط ہے تو بولیں ۔۔۔ میری 19 سال کی ٹریولنگ ہسٹری ہے ۔ کئی سال دبئی رہا ، کئی سال سعودی عرب میں ٹیکسی چلائی ۔ دنیا کے کسی ملک میں میرے اوپر کوئی پرچہ نہیں ۔ میں ایک شریف اور معزز شہری ہوں ، 19 سال میں ایک بار بھی کہیں سے ڈیپورٹ نہیں ہوا ، پھر مجھے بغیر وجہ بتائے کیوں جہاز پر سوار ہونے اور سفر نہیں کرنے دیا جارہا ۔۔۔۔ ان سب باتوں کے باوجود میڈم جی اور دیگر افسران نے کہا ہم کچھ نہیں کرسکتے آپ انتظار کریں بڑی میڈم آئیں گی تووہ فیصلہ کریں گی ۔ اس دوران 10 بج گئے ، میڈم کا انتظار کرتے پونا گھنٹہ گزر گیا مگر وہ تشریف نہ لائیں جب فلائٹ میں 15 منٹ رہ گئے تو قطر ائیرویز کے ایک نمائندے نے انہیں آکر کہا آپ جلدی سے اپنا مسئلہ حل کروائیں ہم آپ کی خاطر 15 منٹ فلائٹ لیٹ کردینگے کیونکہ آپ کا کیس جینوین ہے ان لوگوں کو پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے ۔۔۔ فلائٹ سے 10 منٹ پہلے میڈم جی آ گئیں اور یہ ان کے دفتر کی طرف لپکے مگر انہیں روک دیا گیا میڈم آپ سے نہیں ملنا چاہتیں ۔۔۔ انہوں نے سر پکڑ کیا ایک طرف بیٹھ گئے فلائٹ انہیں چھوڑ کر روانہ ہو گئی اور یہ اس سوال کے ساتھ ائیرپورٹ سے باہر آگئے کہ انکا جرم کیا ہے کیا یہ انڈین ایجنٹ ہیں یا اسرائیلی ہیں یا پھر افغانی ہیں جو انکے ساتھ یہ سب ہوا ۔۔۔ شہری کے بقول مجھے 5 لاکھ کا ٹکٹ ضائع ہونے کا افسوس نہیں ۔ افسوس اس بات پر ہے کہ اپنے ہی ملک میں ہمارے ٹیکسوں پر پلنے والے سرکاری ملازموں نے فرعون بن کر بلاوجہ میری تذلیل کی ۔۔۔ کوشش کرونگا کہ ایک بار پاکستان سے نکل گیا تو پھر اس اندھیر نگری مین واپس ہی نہ آؤں۔
Leave a Reply