
کچھ رُوحیں دھرتی پہ صرف غم سہنے آتی ہیں۔ اس بچے کا نام نجم علی عباس ہے اور۔۔۔
کچھ رُوحیں دھرتی پہ صرف غم سہنے آتی ہیں۔ اس بچے کا نام نجم علی عباس ہے، عمر تقریباً گیارہ بارہ سال، اس بچے کے بارے چند دن پہلے بھی پوسٹ لگائی تھی، یہ تین بہن بھائی ہیں، سب سے چھوٹی بہن کی عمر چار سال ہے۔
والدین کی ناچاقی ان بچوں کی زندگی کی بربادی کا سبب بنی، والدہ نے آگے شادی کرلی، بچے زمانے کے رحم و کرم پہ پلنے لگے، اپنا ذاتی گھر تھا نہیں، کبھی کسی کے گھر تو کبھی کسی کے ہاں ، حالات انہیں ہمارے پاس لے آئے، میں نے اور ہمارے پڑوسیوں نے انہیں اپنے بچوں کی طرح سنبھال لیا، بس اللہ نے انہیں سر چُھپانے کے لئے چھت دینی تھی ہمارے وسیلہ سے مل گئی، یہ پہلے سارا دن گلی محلہ میں گھومتے رہتے تھے، محلہ والوں کے کام کردیا کرتے تھے، نہ سکول نہ تعلیم نہ تربیت، اپنے بچوں کے ساتھ ان تینوں کو سکول داخل کروا دیا، وردی کتابیں بیگ دیکھ کر بچوں کی خوشی قابل دید تھی، تینوں بچے بہت لائق ثابت ہوئے، انڈین اداکار مرحوم عرفان خان کا جملہ ہے ناں کہ اپنا جب وقت آنے لگتا ہے درمیان میں موت آجاتی ہے، نجم علی عباس کے ساتھ بھی وہی ہوا ، پہلی کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کی، نئی کلاس کے پہلے دن طبیعت خراب ہوئی، ڈاکٹر کے پاس لے گیا ، ٹیسٹ کروائے پتہ چلا ایچ بی صرف تین رہ گئی تھی، اس کے بعد جو ہوسکتا تھا کیا، ساہیوال ، سرگودھا پھر لاہور چلڈرن ہسپتال تک لے گئے مگر نجم علی عباس دوبارہ نہ اُٹھ سکا، اور آج سارے دُکھوں سے آزاد ہوکر واپس وہیں چلا گیا جہاں سے آیا تھا۔ آج قبر میں نجم علی کو اتارتے ہوئے یہی سوچتا رہا کچھ رُوحیں دھرتی پہ صرف غم سہنے آتی ہیں۔
Leave a Reply