
نبیحہ علی کو کیا بیماری ہے؟ شوہر نے بڑے راز سے پردہ اٹھا دیا
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سوشل میڈیا پرسنلیٹی اورماہرِ نفسیات نبیہہ علی خان کے ازدواجی زندگی کے حوالے سے انکشاف کے بعد ان کے شوہرحارث کھوکھر کا بیان بھی آ گیا۔ حارث کھوکھرنے سوشل میڈیاپرشیئرکی گئی اپنی ایک ویڈیومیں کہاکہ سوشل میڈیاپرمیری بیوی نبیہہ علی خان کابیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ میری ساس اورسسر مجھے ذہنی ٹارچرکرتے ہیں۔
حارث کھوکھرنے کہاکہ میرے گھرمیں میرے بڑے بھائی کی بیوی بھی رہتی ہیں جوسپیشلسٹ ڈاکٹرہیں اوران کے دوبچے ہیں،وہ ہمارے گھرکی عزت ہیں،اگر کوئی عورت خوش نہ ہوتو وہ اس کے چہرے سے نظرآتاہے،اس کاوز ن بھی گرنے لگتاہے،شادی سے پہلے اوربعد میں آپ نبیہہ علی خان کودیکھ لیں آپ کوپتہ چل جائے گا کہ وہ شادی کے بعد خوش تھی یاناخوش؟انہیں کھانابیڈپرملتاتھا،ملازم ان کے کپڑے دھوتے اوراستری کرکے دیتے تھے اس کے بھی ثبوت موجود ہیں۔جہاں تک ان کے گھرسے نکالنے کے الزام کاتعلق ہے تو اس الزام میں کوئی صداقت نہیں ہے،انہوں نے خود آن لائن گاڑی منگوائی اورسامان اٹھاکرچلی گئیں جس کے سی سی ٹی وی کیمرے کے ثبوت بھی موجود ہیں۔حارث کھوکھرنے مزیدبتایاکہ انہوں نے گھرچھوڑنے سے پہلے میری اجازت بھی نہیں لی،ہمارااختلاف کوئی نہیں تھا،وہ میری عزت ہیں اورمیری بیوی ہیں،خاندانی اورنسلی بندہ کسی کے ساتھ بیٹھ کرکھالے یادوستی رکھی ہو تو وہ کسی پر کیچڑنہیں اچھالتا،عزت دینے والی ذات اللہ کی ہے جب تک اللہ نہ چاہے کوئی کسی کورسوانہیں کرسکتا،چالاک انسان خود کوسچاثابت کرنے کے لئے بہت سے تیرآزماتاہے،چالیں چلتاہے لیکن اللہ کی ایک ہی چال ہوتی ہے اوراس میں انسان زیرہوجاتاہے۔
حارث کھوکھرنے بتایاکہ عورت چونکہ آنسوبہالیتی ہے اس کایہ مطلب یہ نہیں کہ وہ سچی بھی ہے،مرداس طرح رونہیں سکتاکیونکہ وہ مضبوط ہوتاہے،میں کسی کی کردارکشی کروں گاناکیچراچھالوں گالیکن ایک بات کہوں گاکہ وہ میرے گھرمیں بے حدخوش تھی۔
حارث کھوکھرنے کہاکہ ہمارااختلاف صرف اس چیز پرتھاکہ میں نے ایک بزنس شروع کیاانہوں نے مجھے کہاکہ اگر آپ باہر جائیں گے تومجھے ساتھ بٹھاناہے،اب کوئی بھی مرداپنی بیوی کوہرجگہ اپنے ساتھ نہیں بٹھاسکتا،میں نے ہرجگہ انہیں ساتھ لے جانے سے انکارکردیا۔میں نے زندگی میں کبھی کوئی غلط کام نہیں کیالیکن ان کوایک وہم اورشک کی بیماری ہے،اب وہم اورشک کاکوئی علاج نہیں ہے۔ظاہر ہے میں ہروقت گھرپرتو نہیں بیٹھ سکتامجھے روزی روٹی کمانے کے لئے باہر جاناہوتاہے،انسان کواتنابھی شکی مزاج اورمنفی نہیں ہوناچاہیے،اس کے علاوہ ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈاکٹرنبیہہ علی خان نے 24 نیوزکے پروگرام ’’نوررمضان‘‘میں پہلی مرتبہ اپنی ازدواجی زندگی کی دردناک کہانی بیان کرتے ہوئے انکشاف کیاتھا کہ سوشل میڈیا انفلوئنسر حارث کھوکھر سے شادی ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔
نبیہہ علی خان کے مطابق شادی کے دو ماہ میں ہی انہیں شدید ذہنی ٹارچر، الزامات، پابندیوں اور تضحیک کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ ان کے شوہر نے خود اعتراف کیا کہ اس نے محبت نہیں بلکہ شہرت کے لالچ میں شادی کی تھی تاکہ بعد میں انہیں بدنام کیا جا سکےکہ ڈاکٹر نبیہہ علی خان گھر نہیں بسا سکتی۔
نبیہہ علی خان نے رمضان ٹرانسمیشن نورِ رمضان میں روتے ہوئے بتایا تھاکہ شادی کے بعد ان کی زندگی مسلسل کرب اور اذیت کا شکار رہی، انہیں اپنے بیڈروم کا دروازہ بند کرنے کی اجازت نہیں تھی، نہ شوہر کے ساتھ سکون سے بیٹھ کر کھانا کھانے دیا جاتا تھا، ہر بات پر شک کیا جاتا، انہیں غلط ثابت کر کے ذلیل کیا جاتا اور سنگین الزامات لگائے جاتے۔
انہوں نے کہا کہ جس شخص کے ساتھ ایک پلیٹ میں کھانا کھایا، اسی نے بعد میں ایسا اذیت ناک رویہ اختیار کیا کہ ان کی زندگی جہنم بن گئی، ساس کے رویے نے بھی ان کی زندگی کو عذاب بنا دیا، شوہر ہر معاملے میں اپنی ماں کا ساتھ دیتا رہا اور بیوی کو تنہا چھوڑ دیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے اپنے گھر کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی، روٹیاں بنائیں، برتن دھوئے، صفائیاں کیں اور ہر ذمہ داری نبھائی، لیکن اس کے باوجود انہیں عزت نہ ملی بلکہ بے عزت کر کے گھر سے نکال دیا گیا۔
نبیہہ نے مزید بتایا کہ شوہر اور سسرال والوں نے انہیں ذہنی اذیت بھی دی اور دھمکیاںدیں، یہاں تک کہ انہیں اپنی جان کا خطرہ محسوس ہونے لگا، وہ شدید ظلم، تنہائی اور ڈپریشن کا شکار ہو گئیں، مسلسل ذہنی دباؤ کی وجہ سے ان کی صحت متاثر ہوئی، سر درد اور بے سکونی ان کی زندگی کا حصہ بن گئی۔
نبیہہ علی خان نے کہا کہ ان کے شوہر نے انہیں بیوی نہیں بلکہ استعمال ہونے والی چیز سمجھا، اپنے نام کی مہر لگائی اور پھر بے رحمی سے چھوڑ دیا۔ نبیہہ نے الزام لگایا کہ ان کے شوہر کا رویہ شک، الزام تراشی اور تضحیک پر مبنی تھا جس نے ان کے گھر کو شک کے زہر سے برباد کر دیا،کوئی عورت خوشی سے اپنا گھر خراب نہیں کرتی بلکہ حالات اسے اس مقام تک لے آتے ہیں جہاں برداشت کی حد ختم ہو جاتی ہے۔
اب وہ مزید خاموش نہیں رہیں گی، نہ ہی مزید ظلم برداشت کریں گی۔
Leave a Reply