افسوس صد افسوس۔۔۔15 سال کی عمر میں شادی ، 17 سال کی عمر میں طلاق اور 19 سال کی ہوئی تو۔۔۔

15 سال کی عمر میں شادی ، 17 سال کی عمر میں طلاق اور 19 سال کی ہوئی تو عمر قید ۔۔۔۔۔ سوات سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی کے ساتھ کراچی میں کیا ہوا ؟ چھوٹی سی غلطی نے کیسے زندگی تباہ کردی ؟ گھر کی چار دیواری کو قید سمجھنے والی لڑکیوں کے لیے ایک سبق آموز سچی کہانی۔
سوات کی ایک فیملی کراچی میں رہتی تھی ، یہ لڑکی اپنے ماں باپ کی لاڈلی بیٹی تھی ، 15 سال کی عمر میں والد نے ایک شریف لڑکے سے اسکی شادی کردی جو انکے کارخانے میں کام کرتا تھا ، یہ لڑکا بہت اچھا محنتی اور خیال رکھنے والا تھا لیکن غلطی یہ ہوئی کہ والدین نے وٹہ سٹے میں اس لڑکی کے بھائی کی شادی اس خاندان میں کردی جہاں بیٹی کی شادی ہوئی تھی ۔۔۔ بدقسمتی سے کچھ ماہ بعد اسکے بھائی کی اپنی نوبیاہتا دلہن کے ساتھ ناچاقی ہوئی اور طلاق ہوئی ، نتیجہ میں اس کو بھی طلاق ہو گئی اور 4 ماہ کی حاملہ یہ لڑکی اپنے والدین کے گھر آکر بیٹھ گئی ، کچھ ماہ بعد والدین نے دوبارہ اسکا گھر بسانے کا سوچا ، مگر اب یہ کم عمر لڑکی ایک بیٹے کی ماں بھی بن چکی تھی ، جس لڑکے سے اسکی دوسری شادی طے ہوئی وہ عمر میں چھوٹا تھا اور اس لڑکی کا خیال تھا کہ ایک کم عمر لڑکا کیسے اسکی اور اسکے بیٹے کی ذمہ داری اٹھا سکتا ہے ۔۔۔بس اتنی سی بات پر اس نے بغاوت کا سوچا ، بجائے اسکے کہ گھر والوں کے سامنے شادی سے انکار کرتی ، یہ گھر سے بھاگ نکلی اور بیٹے کے ہمراہ ایک سہیلی کے گھر جا کر رہنے لگی ، زبردستی کی شادی ایک بہانہ تھا اصل میں آزادی چاہیے تھی، یہ چھوٹی موٹی نوکریاں کرتی رہی اس دوران اسکا رابطہ ایک پراپرٹی ڈیلر سے ہو گیا جو اسکا بہت خیال رکھتا ، اپنی ضرورت کے بدلے اسکی ضروریات پوری کرنے لگا اسے ایک مکان بھی کرائے پر لے دیا ۔
ایک روز یہ پراپرٹی ڈیلر ایک چھوٹے سے بچے کو اغ۔وا کرکے لایا اور اسکے پاس رکھا کہ دو تین دن اسکا خیال رکھو، اس نے یہاں بھی غلطی کی اگر اسے پتہ تھا کہ بچہ اغ۔وا شدہ ہے تو پولیس کو اطلاع کردیتی ، لیکن یہ بھی اسکی سہولت کار بن گئی مگر دوسرے دن پولیس نے ریڈ کیا اور یہ گرفتار ہو گئی ۔ اسکے دوست نے اپنا جرم قبول کیا اور اس کا نام بھی لے دیا ، یہ لڑکی انکار کرتی رہی کہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا مگر غلطی تو اسکی تھی ۔۔۔ عدالت نے اس لڑکی کو عمر قید کی سزا سنائی ،جس میں سے یہ اٹھارہ سال قید کاٹ چکی ہے اور جلد رہائی کا امکان ہے ، جیل میں رہ کر اس لڑکی نے مشقت اور کام کیا بیوٹی پارلر کا کورس کیا اور اپنے بیٹے کی تعلیم و دیگر خرچے نکالتی رہی ، اب اس کا بیٹا بی اے کا طالبعلم ہے ، اس خاتون کو افسوس ہے کہ وہ اپنے پہلے شوہر کے پیر پکڑ لیتی کہ وہ اسے نہ چھوڑتا یا پھر ماں باپ کی بات مان لیتی کہ والدین سے بڑھ کر خیر خواہ کوئی اور نہیں ۔۔۔۔ یا پھر اگر وہ گھر سے بھاگی بھی تو غلط لوگوں کے ہاتھوں استعمال نہ ہوتی نوکری کرکے زندگی گزارتی تو اسکی زندگی برباد نہ ہوتی ۔۔۔۔ مگر گیا وقت دوبارہ نہین آتا ، اللہ کریم اس خاتون کی باقی زندگی کو آسان بنائے کہ اس نے اپنی غلطیوں کی سزا بھگت لی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *