
سولرسسٹم استعمال کرنے والوں کوبڑا دھچکا،صارفین کی چیخیں نکل گئیں
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ملک بھر میں سولر توانائی استعمال کرنے والے صارفین کے مسائل کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتے جا رہے ہیں، جہاں پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) پر نیٹ میٹرنگ کے تحت ایکسپورٹ کیے گئے کروڑوں یونٹس غائب کرنے کے سنگین الزامات سامنے آ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق لاکھوں نیٹ میٹرنگ کنکشن رکھنے والے صارفین کی جانب سے پیدا کی گئی بجلی کو باقاعدہ طور پر بلوں کا حصہ نہیں بنایا جا رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سولر صارفین کی جانب سے گرڈ میں فراہم کیے گئے یونٹس کے برعکس، ان کی جانب سے استعمال ہونے والے تمام یونٹس کا مکمل بل وصول کیا جا رہا ہے۔ اس عمل کے باعث صارفین کو وہ رعایت نہیں مل سکی جو نیٹ میٹرنگ کے تحت دی جانی چاہیے تھی۔ خاص طور پر موسم سرما میں، جب بجلی کی کھپت نسبتاً کم ہوتی ہے، سولر صارفین کو غیر معمولی طور پر بھاری بل موصول ہوئے، جس پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔سردیوں کے دوران بھاری بھرکم بجلی بل موصول ہونے پر سولر صارفین نے سخت ردعمل دیا اور ان کا کہنا ہے کہ نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی کو ڈسکوز کی جانب سے لائن لاسز چھپانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ صارفین کے مطابق، بجلی کی پیداوار اور استعمال کے درست اعداد و شمار سامنے نہ لا کر شفافیت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق نیٹ میٹرنگ پالیسی میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد سولر صارفین کی مسلسل حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت منظور شدہ حد سے زائد بجلی پیدا کرنے کی صورت میں اضافی یونٹس کو بل میں شامل نہیں کیا جائے گا، جس سے صارفین کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔مزید یہ کہ ڈسکوز نے گزشتہ دو ماہ سے نیٹ میٹرنگ کے نئے کنکشنز اور معاہدے روک رکھے ہیں۔ ہزاروں صارفین، جو تمام قانونی تقاضے پورے کرنے اور ڈیمانڈ نوٹسز کی ادائیگی کے باوجود، تاحال میٹرز کے منتظر ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں ماہ بھی متعدد سولر صارفین کے ایکسپورٹ یونٹس کو بجلی کے بلوں میں شامل ہی نہیں کیا گیا، جس سے ان کے مسائل مزید سنگین ہو گئے ہیں۔ سولر صارفین نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ میٹرنگ نظام میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور ان کے جائز حقوق کا فوری تحفظ کیا جائے۔
Leave a Reply