
پی ٹی آئی کے مشہور سیاسی پرندے شہباز گل کی زندگی کے حیران کن حقائق۔۔۔شہباز گل فیصل آباد کے ایک۔۔۔
پی ٹی آئی کے مشہور سیاسی پرندے شہباز گل کی زندگی کے حیران کن حقائق : شہباز گل فیصل آباد کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے ، ابھی چھوٹے سے تھے کہ انکی والدہ ایک اندوہناک حادثے میں جان بحق ہوئیں ، وہ ٹاٹ والے سرکاری سکول میں ابتدائی جماعتوں تک زیر تعلیم رہے ،ذہین طالبعلم تھے ۔
ہائی سکول میں اپنے سکول کے لیے تقریری مقابلوں میں ٹرافیاں جیتتے رہے ، کالج کی تعلیم کچھ عرصہ اسلام آباد میں حاصل کی پھر ادھوری چھوڑ کر فیصل آباد کے ایک سرکاری کالج کے طالبعلم بن گئے ، تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسلام آباد کے ایک بڑے تعلیمی ادارے میں پروفیسر مقرر ہوئے کچھ عرصے بعد قائداعظم یونیورسٹی میں پڑھانے لگے کچھ ہی عرصہ گزرا کہ اس یونیورسٹی نے ایک طالبہ کی شرمناک شکایت پر انہیں فارغ کردیا اور یہ بے روزگار ہو گئے ، انہی دنوں میں انہوں نے ملائیشیا کی ایک یونیورسٹی میں سیلف فنانس بیس پر داخلہ لیا اور وہاں سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لے کر لوٹے ، اب وہ ڈاکٹر شہباز گل بن چکے تھے ، اسکے بعد انہیں امریکہ کی ایک غیر معروف یونیورسٹی میں داخلہ ملا اور وہاں کچھ عرصہ زیر تعلیم رہنے کے بعد انہیں نوکری بھی مل گئی ، اسسٹنٹ پروفیسر کی اس جاب پر انہوں نے 12 سال گزارے اور پھر انہیں وہاں کی شہریت مل گئی انہوں نے اپنا گھر بنا لیا فیملی بھی وہاں بنا لی اور اچھی زندگی گزارنے لگے اس دوران پاکستان میں پی ٹی آئی کا بیانیہ سر چڑھ کر بول رہا تھا ۔
شہباز گل اس بیانیے سے متاثر ہوئے اور انہوں نے سیاستدان بننے کا فیصلہ کر لیا انہوں نے مختلف طریقوں سے عمران خان تک پہنچنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے آخر وہ پاکستان چکر لگانے لگے اور پی ٹی آئی قیادت کے رہنماؤں حماد اظہر، اسد عمر کے ذریعے عمران خان تک پہنچ ہی گئے ، عمران خان شہباز گل کی کچھ مہارتوں سے ایسا متاثر اور قائل ہوئے کہ اب شہباز گل ہر وقت عمران خان کے ساتھ نظر آنے لگے پھر عمران خان نے شہباز گل کو امریکہ چھوڑ کر پاکستان آجانے کا کہاتو شہباز گل نے ذرا بھی نہ سوچا اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پاکستان آگئے اور تحریک انصاف کے ترجمان بن گئے جب عثمان بزدار وزیراعلیٰ پنجاب بنے تو انکی رکھوالی نگرانی اور تربیت کے لیے شہباز گل کو انکا ترجمان مقرر کیا گیا پھر کچھ عرصہ بعد وہ وفاق میں وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی بن گئے اور زور وشور سے سیاسی مخالفین کو لتاڑنا شروع کردیا ، مگر کہتے ہیں کہ ہر عروج کو زوال ہوتا ہے تو شہباز گل کو کچھ جلد اور نرالا زوال آیا ، پی ٹی آئی زیر عتاب آئی ،شہباز گل سے غلطی یہ ہوئی کہ جو عمران خان اور انکو حکومت میں لائے تھے یہ انہی پر چڑھ دوڑے ، اور اس الزام تراشی میں انہوں نے حد کردی تو شہباز گل کو بھی حراست میں لیا گیا انہوں نے ان دنوں اپنے ساتھ شرمناک سلوک کا الزام عائد کردیاپھر دنیا نے وہ منظر دیکھا کہ وہ وہیل چیئر پر عدالت میں لائے جارہے اور دھاڑین مار کر رو رہے ہیں اسکے بعد کچھ دن مزید گزرے تو ہاتھ جوڑ کر طاقتوروں سے معافی مانگی اور تحریک انصاف سے لاتعلق ہو گئے۔
Leave a Reply