
پندرہ سال کی عمر میں شادی ، 17 سال کی ہوئی تو طلاق اور 19 سال کی عمر میں جیل، ایک لڑکی کی کہانی
پندرہ15 سال کی عمر میں شادی ، 17 سال کی ہوئی تو طلاق اور 19 سال کی عمر میں جیل پہنچ گئی : کراچی کی ایک لڑکی کی کہانی جو گزشتہ 20 سال سے کراچی کی ایک جیل میں قید ہے ۔۔۔۔سوات کی رہنے والی اس لڑکی کا خاندان والدین بہن بھائی کراچی میں رہتے تھے ، کم عمری میں ہی والدین نے اسکی شادی اپنے رشتہ داروں میں کردی لڑکا غریب لیکن مزدور اور محنتی تھا ، لیکن اس لڑکی کے خواب بڑے تھے ، بہت سارے پیسے ، نت نئے کپڑے ، ہر قسم کا سامان ، گاڑی پر سیر سپاٹے وغیرہ ، آئے روز اپنےشوہر سے جھگڑنے لگی کہ میری خواہشیں پوری نہیں کر سکتے تو مجھے طلاق دے دو ، تنگ آکراس نے طلاق دے دی اور یہ والدین کے گھر آگئی ، والدین اسے کیسے گھر میں بٹھا سکتے تھے ، جبکہ بہن بھائیوں کی لائن لگی ہوئی تھی ، چنانچہ اسکا دوبارہ رشتہ طے ہوا ، شادی کی تیاریاں جاری تھیں اور یہ رخصتی سے ایک روز قبل گھر سے بھاگ نکلی ، اپنی ایک سہیلی کے گھر چلی گئی اور اسکے ماں باپ کو کہا کہ والدین میری زبردستی شادی کررہے ہیں مجھے کچھ روز اپنے پاس رکھ لو ، ان لوگوں نے اسے قریب ہی ایک گھر میں ایک بزرگ خاتون کی نگرانی اور خیال رکھنے کا کام دلا دیا ، اس بیمار بزرگ خاتون کے کام کاج میں اسکا نزدیک ایک جنرل سٹور پر جانا ہوتا تو وہاں ایک لڑکے سے دوستی ہو گئی اور چند دن کی دوستی میں عہد و پیمان ہو گئے ایک روز یہ سہیلی اور بزرگ خاتون کو چھوڑ کر اس لڑکے کے ساتھ بھاگ نکلی ،لڑکے نے ایک مکان کرائے پر لیا ، خود صبح صبح کہیں نکل جاتا یہ سارا دن اس مکان میں بیٹھی رہتی ، پیسے کھلے تھے ، خرچے پورے ہو رہے تھے وہ سمجھی کہ اب زندگی آسان ہو گئی ہے مگر زندگی تو اب جہنم بننے والی تھی ، ایک روز اسکا دوست ایک چھوٹے سے بچے کو گھر میں لے آیا کہ اسے چھپا کر رکھنا ہے ، کمرے سے نہیں نکلنے دینا اور اسکو کھانا وغیرہ کھلانا ہے ۔۔۔ یہ بچے کا خیال رکھتی رہی مگر 2روز بعد پولیس نے چھا۔پہ مارا ، بچہ اغ۔واشدہ تھا یہ برآمد ہو گیا ساتھ یہ لڑکی بھی گرفتار ہو گئی ، سارے ثبوت پولیس نے عدالت میں پیش کیے اور اس لڑکی کو 20 سال قید کی سزا سنا کر جیل بھیج دیا گیا ، اب گزشتہ 17 سال سے یہ لڑکی کراچی کی ایک جیل میں پڑی ہے ، اس سے جب پوچھا گیا کہ کچھ عرصہ بعد آپ رہا ہو جاؤ گی تو روتے ہوئےکہنے لگی ، اب رہا ہو کر کیا کرونگی ، میں نے اپنی بے عقلی سے اپنی زندگی خود برباد کی ، اپنے والدین کی ناک کٹوا دی ، جوانی گل گئی اب کہاں جاؤنگی ، میں یہیں ٹھیک ہوں ، نوجوان لڑکیوں کو مشورہ دیتی ہوں سنہرے خوابوں کے پیچھے دوڑ کر اپنی زندگی خراب نہ کریں ، والدین جوسوچتے ہیں ٹھیک سوچتے ہیں ، دنیا میں سب سے اچھے دوست صرف اپنے گھر والے ہوتے ہیں باقی سب دھوکا ہے ۔۔۔۔
Leave a Reply