
اس خاتون کا نام کوثر ہےکوثر کہتی ہے کہ میں بہت چھوٹی تھی جب راولپنڈی کے۔۔۔
اس خاتون کا نام کوثر ہے۔
کوثر کہتی ہے کہ میں بہت چھوٹی تھی جب راولپنڈی ریلوے اسٹیشن سے اغواء ہوئی تھی۔
امی ابو اور دو بھائی ہم سب ٹرین اسٹیشن پر تھے،ہم پنڈی سے پشاور جارہے تھے۔
اسٹیشن میں مجھے ایک عورت نےکہا آؤ تمہیں گڑیا دوں۔
میں اسکے پیچھے پیچھے گئی ایک مرد بھی اس عورت کے ساتھ تھا،مجھے وہ اغواء کرکے کراچی لیکر گئے۔ کراچی ٹرین اسٹیشن کے قریب ایک گھر میں رکھا جہاں اور بچے بھی موجود تھے۔
ایک ایک کرکے بچوں کو کہیں بیچ کر یا منتقل کرکے آتے۔
میں اکیلی رہ گئی تھی وہ باہر تھے،گھر کی چھت سے نیچے دیکھا مٹی گری ہوئی تھی۔ میں نے وہاں سے چھلانگ ماری،ٹرین اسٹیشن تک پہنچی۔ پولیس کے پاس گئی پولیس نے مجھے ایدھی میں جمع کرادیا۔
میرا نام والدین نے کوثر رکھا تھا۔
ابو کا نام شفیع تھا اور امی کا نام صفیہ تھا۔
ایک بھائی مجھ سے بڑا تھا اور ایک بھائی چھوٹا تھا۔
بھائیوں کے نام مجھے یاد نہیں ہیں۔
گھر میں پنجابی زبان بولتے تھے۔
مجھے ایدھی میں دس سال رکھا گیا میں جب بڑی ہوئی تو ان سے کہا مجھے راولپنڈی جانے دیں میں جاکر خود اپنا گھر تلاش کرلونگی۔
یہاں آئی تو گھر مجھے نہیں ملا۔ ایک علاقے کے چیئرمین نے اپنے گھر میں رکھا۔
اور بعد میں میری شادی کروادی۔
میری عمر اس وقت چھ یا سات سال ہوگی۔
ابھی میری عمر پینتیس سال ہے (ممکن ہے عمر زیادہ ہو)۔
راولپنڈی کے تمام دوست اس اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔
اپنی بہن سمجھ کر ضرور شئیر کریں اور ایک لاوارث کو اپنوں سے ملانے میں مدد کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر واٹس ایپ کریں۔
Leave a Reply