
کہا جاتا ہے کہ ایک بار جنرل حمید گل کے پاس ایک بااثر کاروباری شخص آیا۔ اس نے اپنے ایک بڑے۔۔۔
کہا جاتا ہے کہ ایک بار جنرل حمید گل کے پاس ایک بااثر کاروباری شخص آیا۔ اس نے اپنے ایک بڑے مسئلے کے حل کے لیے اُن سے سفارش کی درخواست کی۔ اس نے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کی “خدمت” بھی کر سکتا ہوں—یعنی اشاروں میں رشوت کی پیشکش کی۔
جنرل حمید گل نے مسکرا کر اس کی بات سنی، پھر نہایت سنجیدگی سے جواب دیا:
“بیٹا! فوج کی وردی عزت ہے، تجارت نہیں۔ اگر اللہ نے مجھے اس منصب پر بٹھایا ہے تو یہ لوگوں کے کام رشوت سے نہیں، انصاف سے کرنے کے لیے ہے۔”
اس نے نہ صرف سفارش سے انکار کیا بلکہ اسے یہ سمجھایا کہ:
“پاکستان میں سب سے بڑی خرابی یہی ہے کہ لوگ حق کے خلاف سہارا تلاش کرتے ہیں۔ تم صحیح ہو تو قانون خود تمہیں سہارا دے گا، غلط ہو تو کوئی جنرل بھی تمہیں بچا نہیں سکتا۔”
وہ شخص بعد میں لوگوں کو بتاتا تھا:
“میں سفارش لینے گیا تھا، مگر وہاں سے ایمان داری کا سبق لے کر نکلا۔”
یہ وہی مضبوطی تھی جو جنرل حمید گل کو ایک سچ بولنے والا، صاف کردار رکھنے والا اور دباؤ سے آزاد انسان بناتی تھی۔
Leave a Reply