
سی سی ڈی نے کمال کردیا۔۔۔موٹروے پر ڈکیتی کیس 48 گھنٹے کے اندر ٹریس اور پھر اصلی پولیس مقابلے میں۔۔۔
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سی سی ڈی حافظ آباد نے کمال کردیا : موٹروے ڈ۔کیتی کیس 48 گھنٹے کے اندر ٹریس اصلی پولیس مقابلے میں 3 ڈاکو پار ۔۔۔۔۔ چند روز قبل شیخوپورہ کی ایک کار سوار فیملی اسلام آباد جانے کے لیے حافظ آباد سے موٹروے پر داخل ہوئی ، پنڈی بھٹیاں تھانہ کی حدود میں انکی گاڑی بند ہو گئی ،اب یہ سروس لین پر گاڑی سے اتر کر کھڑے ہو گئے یہ ایک کھاتی پیتی فیملی تھی گھر کا سربراہ بیرون ملک کام کرتا تھا ، اب اس فیملی کے سربراہ نے موٹروے مکینکل سروس سے فون پر رابطہ کرنا چاہا مگر فوری طور پر اسکا رابطہ نہ ہو سکا اسی دوران ایک کالے رنگ کی کرولا کار انکے پاس سے گزری اور کچھ دور جاکر سروس لین کے زریعے ریورس ہو کر واپس آئی ، اس میں سے چار افراد گاڑی سے نکلے صرف ایک کے پاس پس۔ٹل تھا ، ان لوگوں نے گ۔ن پوائنٹ پر پوری فیملی سے نقدی زیورات اور موبائل فون چھین لیے اور فرار ہو گئے ، اب پوری فیملی نے گزرنے والی گاڑیوں کو ہاتھ کے اشارے سے مدد کے لیے روکنا شروع کیا تو کچھ لوگ رک گئے اور انکے موبائل فونز سے 15 پر اطلاع دی گئی ، تھانہ صدر پنڈی بھٹیاں کی پولیس وہاں پہنچی حالات واقعات کا جائزہ لیا اور جلد ہی یہ کیس سی سی ڈی حافظ آباد کے حوالے کردیا گیا ، موٹروے پر ڈ۔کیتی کی اس واردات کو سی سی ڈی نے چیلنج کے طور پر لیا ، بلیک کرولا کے انٹرنگ اور ایگزٹ مقامات دیکھے گئے ، کیمروں کی ویڈیوز نکلوائی گئیں سی ڈی آر اور جیو فینسنگ سے کرولا کار سوار ڈا۔کوؤں کے نمبر ٹریس کیے گئے جب نشاندہی ہوئی تو پتہ چلا کہ کار سوار ڈ۔کیت اسی علاقے میں کسی مقام پر موجود ہیں ۔ سی سی ڈی کی ٹیمیں فوری طور پر وہاں پہنچیں ۔ ایک حقیقی مقابلہ ہوا جس میں تین ڈا۔کو قلب عباس ، غلام حسین اور بابر علی شدید زخمی اور بعد ازاں دم توڑ گئے جبکہ سی سی ڈی کا ایک اہلکار شدید زخمی ہوا ، جسے ٹراما سنٹر حافظ آباد منتقل کیا گیا جہاں اسکی حالت نازک بتائی جارہی ہے ۔
Leave a Reply