
کچھ عرصہ قبل لاہور کی فضاؤں نے ایک ایسے آدمی کا سفر آخرت یعنی جنازہ دیکھا جسکی موت پر غریب مزدور دیہاڑی دار اور بھکاری تک رو رہے تھے ۔ یہ۔۔۔۔
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) کچھ عرصہ قبل لاہور کی فضاؤں نے ایک ایسے آدمی کا سفر آخرت یعنی جنازہ دیکھا جسکی موت پر غریب مزدور دیہاڑی دار اور بھکاری تک رو رہے تھے ۔ یہ میجر(ر) رشید وڑائچ کا آخری سفر تھا، جس میں ایک عالم امڈ آیا۔
اس جنازے میں ہر مکتب فکر کے لوگ شامل تھے ، خواص عام رشتہ دار یار دوست ،،،مگر کچھ لوگوں کی موجودگی باعث حیرانگی تھی جن میں چوبرجی چوک کے پارک اور فٹ پاتھوں پر سونے والے کئی مزدور بھی شامل تھے۔یہ وہ لوگ تھے جنہیں میجر صاحب ایک عرصے سے صبح کا ناشتہ کراتے تھے، ان کا معمول تھا کہ وہ ہر روز300 کے لگ بھگ محنت کشوں کا کھانا گھر میں تیار کراتے،جس میں نان چنے، نان حلوہ،انڈہ چائے اور دیگر لوازمات ہوتے۔ میجر رشید وڑائچ رات بھر یہ پکوان گھر بنواتے اور صبح سویرے ’’حی علی الفلاح‘‘ کی صدا بلند ہوتے ہی اپنے ملازمین کے ہمراہ غریبوں کی پیٹ پوجا کرانے ان کے ٹھکانے پہنچ جاتے۔میجر رشید وڑائچ کا لنگر اب بھی چوبرجی پارک کے مکینوں کے لئے جاری ہے، اب صبح کے وقت ان کے گھر کے باہر بھی دو اڑھائی سو غریب اور نادار جمع ہو جاتے ہیں۔اُنہیں بھی صبح کا ناشتہ کرایا جاتا ہے، مرحوم کی وصیت کے مطابق ان کی اکلوتی بیٹی صوفیہ رشید خدمت خلق کا یہ کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
میجر(ر) رشید وڑائچ آج سے 76 برس قبل سرگودھا کے چک 95 جنوبی کے ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے، عام دیہاتی بچوں کی طرح بچپن گزرا، سکول اور کالج کی تعلیم سرگودھا سے حاصل کر کےپنجاب یونیورسٹی سے ماسٹر کیا۔ 1966ء میں پاک فوج کی پنجاب رجمنٹ میں کمیشن لیا۔ 1971ء کی لڑائی میں مشرقی پاکستان میں تعینات رہے۔ ہندوستان کی فوج کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹ گئے، بہادری کی نئی داستان مرتب کی۔۔ ان کی شخصیت، اُمید، سخاوت، انسانیت اور مہمان نوازی جیسے عناصر سے عبارت تھی۔انہوں نے اپنی زندگی میں اپنی ساری جائیداد کا ٹرسٹ بنا کر اس کی آمدن دُکھی دِلوں کے لئے وقف کر دی تھی، صرف 7مرلے کا گھر اپنی بیگم اور اکلوتی بیٹی کے لئے چھوڑا۔ حضرت امیر حمزہ سے انہیں عشق کی حد تک لگاؤ تھا، نرینہ اولاد نہ ہونے پر ایک بچے کو گود لیا اور نام امیرحمزہ رکھا۔ اللہ کریم اس عظیم شخصیت کے درجات بلند فرمائے آمین۔
Leave a Reply