
باجو بھنڈر :ایک سیاستدان کا بیٹا شہباز المعروف باجو بھنڈر غریبوں کا مسیحا اور مخالفوں کے لیے موت کیسے بنا ؟ پہلے اسکے۔۔۔
باجو بھنڈر : بہاولپور کے ایک سیاستدان کا بیٹا شہباز المعروف باجو بھنڈر غریبوں کا مسیحا اور مخالفوں کے لیے موت کیسے بنا ؟ پہلے اسکے کچھ واقعات ۔۔۔ 1۔ باجو بھنڈر مفروری کے دنوں میں ایک بس میں سفر کررہا تھا ، کہ بس کو ڈا۔کوؤں نے روک لیا اور مسافروں کو لوٹنا شروع کردیا ۔
باجو بھنڈر کی اگلی سیٹ پر ایک خاتون بیٹھی تھی ڈا۔کوؤں نے اسکے کانوں سےبالیاں نوچ لیں وہ زخمی عورت پکاری اللہ غرق کرے تمہیں کون ہو تم ۔۔ ایک ڈ۔اکو بولا ہم باجو بھنڈر کے ساتھی ہیں ،، جب ڈ۔اکو اپنا کام کرکے نیچے اترے تو باجو بھنڈر انکے پیچھے اتر اپنی چادر سے کلاشن نکالی اور تینوںڈا۔کوؤں کو ڈھیر کردیا ، پھر سب سواریوں میں انکا سامان تقسیم کیا اور بولا باجو بھنڈر اتنا بے غیرت نہیں کہ ڈا۔کے مارے اور عورتوں کی بالیاں نوچتا پھرے ۔۔۔ 2۔ ایک بار باجو بھنڈر اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ کھیتوں سے گزر رہا تھا ، اور سب شدید بھوکے تھے ، ایک عورت شایداپنے گھر کے مردوں کی روٹی لے کر کھیتون میں جارہی تھی ، باجو بھنڈر نے اسے کہا بہن ہم بھوکے ہیں اگر مہربانی کر سکتی ہو تو روٹی ہمیں بھی کھلا دو ، خاتون بھی اچھے دل کی تھی اس نے باجو بھنڈر کو ساری روٹی دے دی اور خود ایک طرف برتن لینے کے لیے بیٹھ گئی ، باجو سے ایک ساتھی نے کہا خوبصورت عورت ہے اور یہاں کوئی نہیں کیوں نہ کچھ موج کر لیں ۔۔۔ یہ سن کر باجو بھنڈر کی آنکھوں میں خون اتر آیا اس نے فورا اپنے ہی ساتھی کو گو۔لی مار دی اور بولا اتنا بے غیرت بندہ میرا ساتھی ہے یہ میں کیسے برداشت کروں ۔
مفروری کے دنوں میں ہی باجو بھنڈر نے سرگودہا کے قریب ایک گاؤں میں کسی گھر کے دروازے پر دستک دی ، ایک بوڑحا شخص باہر نکلا تو باجو بھنڈر نے اسے کہا بابا ہم مسافر ہیں اور بھوکے ہیں ہمیں کھانا کھلا دو ۔۔ وہ بوڑھا انہیں اندر لے گیا اور جو روکھی سوکھی ہو سکی انہیں روٹی کھلائی ، باتوں ہی باتوں میں بابا جی نے بتایا کہ تین بیٹیاں کنواری گھر بیٹھی ہیں مگر اتنی سکت نہیں کہ انکی شادی کروں ۔۔۔ باجو بھنڈر اور اسکے ساتھی بابا جی کا شکریہ ادا کرکے چلے گئے اور چند روز بعد پھر واپس آئے ، بابا جی نے انہیں پھر کھانا کھلایا جاتے ہوئے باجو بھنڈر نے 3 لاکھ روپیہ بابا جی کے ہاتھ میں تھمایا اور بولا بابا جی ہماری بہنوں کی شادی کردو یہ ہماری طرف سے بہنوں کو سلامی ہے ۔۔۔۔
Leave a Reply