
بے شک اللہ سب سے بڑا ہے اور وہی معاف کرنے والا ہے : شارجہ میں ایک بے گناہ پاکستانی کے جیل جانے عمر قید کی سزا پانے اور رہا ہونے کی سچی کہانی
بے شک اللہ سب سے بڑا ہے اور وہی معاف کرنے والا ہے : شارجہ میں ایک بے گناہ پاکستانی کے جیل جانے عمر قید کی سزا پانے اور رہا ہونے کی سچی کہانی : محمد ایاز خان آزاد کشمیر کے رہائشی ہیں وہ بسلسلہ روزگار 18 سال سے شارجہ میں مقیم تھے جب ایک روز وہاں کے کچھ مقامی دوستوں نے انکے کمرے میں ایک بیگ رکھوا دیا کہ کچھ دیر بعد اٹھا لیں گے۔
دوست کافی عرصہ سے واقف تھے شک کی کوئی بات نہ تھی مگر کچھ دیر بعد دوستوں کی بجائے پولیس آگئی ، کمرے کی تلاشی لی تو بیگ سے من شیات برآمد ہو گئی ، شرطے انہیں تھانے لے گئے اور انہیں زندانہ یا حوالات میں ڈال دیا ، یہ زندانہ ایک 8 بائی 8 فٹ کا ایک کمرہ ہوتا ہے مکمل بند اور ساؤنڈ پروف صرف زیزو بلب کی روشنی اور 24 گھنٹے باہر کی روشنی سے محروم ۔۔ اس زندانہ میں ایاز خان نے 8 ماہ گزارے اسکے بعد انکا عدالت میں کیس لگا ، یہ کورونا کے دن تھے ویڈیو پر پیشی ہوتی ، ایاز خان کو ہدایت کی گئی کہ صرف جج جو پوچھے ہاں یا ناں میں جواب دینا ہے ایک لفظ بھی فالتو بولے تو توہین عدالت لگ جائے گی ، ہاں ناں پر مبنی ان سماعتوں کے کچھ دور چلے اور ایاز خان کو عمر قید کی سزا سنا کر شارجہ کی واسط جیل میں بھیج دیا گیا ، یہ جیل جہنم سے کم نہ تھی ، یہاں ہر قیدی کے لیے 2 بائی 6 فٹ کی ایک ٹائل ہوتی اس قیدی کو اسی پر بیٹھنا اور سونا پڑتا تھا ، 2 کمبل ملتے جو ایک اوپر اور ایک نیچے لینا ہوتا ۔
کسی قیدی کو اپنی ٹائل سے ادھر ادھر تجاوز کرنے پر سخت سزا ملتی ، ایاز خان کا قد 6 فٹ تھا ، یہاں صبح ایک چائے کا کپ اور ایک پاپہ ناشتے میں ملتا ، چائے سے اکثر محروم رہ جاتے ، دوپہرکو تھوڑی سبزی ایک روٹی اور شام کو بھی پانی جیسی دال اور ایک روٹی ۔۔ کپڑے ، قیدی یونیفارم یا ملاقات کا ان جیلوں میں کوئی تصور نہ تھا ، خاص کر غیر ملکی قیدیوں کے لیے ، ایاز خان بہت پریشان تھے ، دن رات گڑگڑا کر اللہ سے معافی مانگا کرتے ،مگر ایاز خان کی مشکلات ایسے بڑھتی رہیں کہ مقامی عدالت کے بعد شارجہ کی ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ ہر جگہ سے انکی سزا کے خلاف اپیل مسترد ہوتی گی ۔ انہی دنوں میں انکی ملاقات ایک مصری قیدی سے ہوئی جو حافظ قران تھے ، ایک روز انہوں نے ایاز خان کو پریشان دیکھ کر مشورہ دیا قران مجید حفظ کرنا شروع کرو ، یہاں سزا معافی اب صرف اسی صورت میں ممکن ہے ، اگر پھر بھی معافی نہ ہوئی تو آخرت سنور جائے گی ، چنانچہ ایاز خان نے قران مجید حفظ کرنا شروع کیا مگر انہیں اچھی طرح سے سورۃ اور آیتیں یاد نہ ہوتیں ، پھر انہی مصری حافظ قران قیدی نے مشورہ دیا کہ دل کو صاف اور سفید کرو ، تمہارے دل میں کچھ ہے کہ قران داخل نہیں ہورہا۔
انکے مشورے پر ایاز خان کئی روز اللہ سے معافی مانگتے رہے ، اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا سبب بنے والوں کو معاف کرتے رہے ، دل کے سب گلے شکوے ختم کرتے رہے پھر اللہ نےکرم کیا اور ایاز خان کو قران حفظ ہونا شروع ہو گیا اور وہ 7 ویں سپارے میں پہنچ گئے اس دوران پانچ سال گزر چکے تھے ، آخر ایک روز اللہ نے انکے حال پر رحم فرما دیا ، مقامی شیخ ہر ماہ کچھ قیدیوں کی سزا معاف کرتے ، ایک روز اس فہرست میں ایاز خان کا نام بھی آگیا ، ایاز خان کو واسط جیل سے پھر کسی اور قید خانے میں منتقل کیا گیا تاکہ پاکستان واپسی کے لیے انکے کاغذات بن سکیں کیونکہ انکے پاسپورٹ وغیرہ ایکسپائر ہو چکے تھے اور اب انہیں ڈیپورٹ کیا جانا تھا ، 14 دن ایاز خان اس عارضی قید خانے میں رہے جو انہیں پچھلے 5 سال سے بھی مشکل لگے آخر کار ایک روز رات 12 بجے ایاز خان کو پاکستان آنیوالے ایک جہاز میں اس حال میں بٹھایا گیا کہ انکے بدن پر وہی جیل والے بدبودار پھٹے کپڑے اور پاؤں میں پلاسٹک کی ٹوٹی چپل تھی ، جہاز کے دیگر مسافر نہایت حقارت سے ان کی طرف دیکھ رہے تھے صبح کے قریب جہاز نے لاہور لینڈ کیا ۔
ایاز خان جہاز سے نکل کر لاہور ائیرپورٹ کے ٹھنڈے رن وے پر ہی سجدہ ریز ہو گئے ، آزاد کشمیر سے انکے اہل خانہ اور رشتہ دار انہیں لینے آئے ہوئے تھے ۔۔۔۔ ایاز خان نے بتایا کہ شارجہ کی جیل میں ہزاروں بے گناہ پاکستانی قید ہیں جو قومیت کے حوالے سے یتیموں کی طرح قید بھگت رہے ہیں ، ان سے اچھے افغانستان ایران اور انڈیا کے قیدی ہیں جنکے سفارتخانوں کے لوگ اکثر انکے پاس چکر لگاتے اور انہیں خرچ کے لیے کچھ رقم بھی دے جاتے ہیں مگر ایاز خان نے 5 سال میں ایک بار بھی پاکستانی سفارتخانے والوں کو وہاں نہیں دیکھا۔
Leave a Reply