
عثمان اور کشمالہ کی ظلمی پریم کہانی جس نے عشق کی ایک انوکھی داستان رقم کردی، دونوں کے سر پر۔۔۔۔
کہتے ہیں کہ عشق اندھا ہوتا ہے۔۔۔عثمان اور کشمالہ کی ظلمی پریم کہانی : چوہنگ کے علاقے میں 2 سال قبل پیش آنے والا اندوہناک واقعہ : سچ کہتے ہیں ق۔ت۔ل سو سال بعد بھی بے نقاب ہو جاتا ہے : لاہور کے علاقہ چوہنگ میں ایک لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے سے عشق کرتے تھے ، شادی کرنا چاہتے تھے مگر لڑکے کے گھر والے راضی نہ ہوئے چنانچہ اسکی شادی چچا کی بیٹی سے کردی گئی ۔
عثمان کی بیوی فرمانبردار خوبصورت پیار کرنے والی تھی ۔ دوسری جانب کشمالہ کی شادی بھی اپنے تایازاد سے ہوگئی اسکا شوہر بھی شریف اور اچھا نوجوان تھا ، بیوی سے پیار کرتا اور اسکی ہر خواہش پوری کرتا ،،مگر دوسری طرف عشق کا شیطان بھی رقص میں مصروف تھا ، شادی کے 2 ماہ بعد عثمان نے اپنی بیوی کو نیند کی گولیاں دیں ،وہ بے چاری بے ہوش ہوئی تو تکیہ منہ پر رکھ کر سانس بند کیا اور جب وہ مر گئی تو اسکو بے لباس کرکے باتھ روم میں لے گیا وہاں اسکا سر نل سے ٹکرا کر زخم بھی لگایا ، بیوی کے نئے کپڑے بھی باتھ روم میں رکھے ۔یہ تاثر دینے کے لیے کہ بیوی نہانے کے لیے باتھ روم گئی اور گر کر فوت ہوگئی ۔۔۔۔ اسکے بعد یہ گھر سے چلا گیا ، پھر اسے فون کیا گیا کہ بیوی باتھ روم میں گر کر فوت ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔اس بے گناہ لڑکی کی تدفین کردی گئی کسی کو شک بھی نہ ہوا ۔۔۔ دوسری جانب کشمالہ نے پارٹ ٹو پر کام شروع کیا اس نے ایک دن شوہر کو نیند کی گولیاں دیں اور عثمان کو بلا لیا بے ہوش شوہر کےمنہ پر شاپر چڑھایا گیا جب اسکا سانس بند ہو گیا تو اسکا جسم باہر گیٹ کے پاس چھوڑ دیا گیا ۔۔۔۔ سب یہی سمجھے کہ ہارٹ اٹیک سے فوت ہوا ہے۔
چند ماہ گزرے دونوں کا رابطہ فون پر کبھی نہ ٹوٹا ، عدت وغیرہ ختم ہوئی تو دونوں گھروں میں والدین شادی کے پروگرام بنانے لگے کشمالہ نے اپنی ماں کو کہا کہ میں عثمان کو پسند کرتی ہوں اسکی ماں نے کہا انہیں رشتہ مانگنے آنا چاہیے ، مگر عثمان کے گھر والے کشمالہ کے ساتھ رشتے پر آمادہ نہ ہوئے ۔ چنانچہ ایک بار پھر کشمالہ کی بھی شادی کردی گئی اور ادھر عثمان کی شادی اسکی سابقہ بیوی کی بہن سے ہو گئی ۔۔۔ مگر عشق کا بھوت ابھی دونوں کے سر پر سوار تھا ،ایک ایک ق۔ت۔ل دونوں کا چھپ چکا تھا اور ایک دوسرے کو پانے کے لیے یہ ایک اور ق۔ت۔ل یعنی کشمالہ کے دوسرے شوہر کی جان لینا چاہتے تھے ۔۔۔۔ یہاں مزید ظلم قدرت کو منظور نہ تھا کشمالہ اور عثمان کی عقل یہاں ساتھ چھوڑ گئی دونوں نے پروگرام بنایا کہ کشمالہ اپنے شوہر کو ہنی مون کے لیے مری لے جائے ، دوسری طرف عثمان اغ۔وا ہونے کا ڈرامہ رچائے گا اور وہ بھی مری پہنچ جائے گا ، چونکہ کشمالہ کا دوسرا شوہر اسے نہیں جانتا تھا لہذا کسی ویران جگہ گھومتے پھرتے عثمان کشمالہ کے شوہر کو پہاڑیوں سے دھکا دے گا اور وہ بھی اگلے جہاں پہنچ جائے گا ، یہ معاملہ ختم ہوجانے کے بعد کشمالہ عثمان کے ساتھ بھاگ کر شادی کرلے گی۔
عثمان ڈرامے کے تحت اغ۔وا ہوا تو اسکے گھر والوں نے اسکے اغ۔وا کی درخواست تھانے میں دی ، سنگین نوعیت جان کر پولیس نے ہنگامی بنیادوں پر تفتیش شروع کی تو عثمان کے کال ریکارڈ پر کشمالہ موجود تھی اس سے پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے بڑی آسانی سے ہتھیار ڈال دیے ، پھر کشمالہ نے فون کرکے عثمان کو واپس بلا لیا اور پولیس نے اسے بھی گرفتار کر لیا ۔۔۔ یہاں دونوں کے پہلے شوہر اور بیوی کی موت پولیس پر پولیس کو شک گزرا اور جب دونوں کو انٹیروگیشن روم کی سیر کروائی گئی تو دونوں نے اعتراف جرم کر لیا ۔۔۔۔۔ اس سچی کہانی کی سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ کم عقل ملزم یا مجرم جوڑا تھانے میں دھڑلے سے کہتا رہا کہ ہم نے ایک دوسرے کو پانے کے لیے جو کیا وہ بالکل ٹھیک ہے ، ہم نے محبت کی خاطر سب کچھ کیا ۔۔۔۔ اب اللہ جانے ایسی سفاکیت اور خود غرضی کو محبت کہا جانا چاہیے یا پھر کچھ اور ۔۔۔۔۔؟؟؟
Leave a Reply