بیس سال تک سرگودہا پر راج کرنے والے بدمعاش کی سبق آموز سچی کہانی : چوہدری غلام حسین عرف باؤ جٹ تحصیل سلانوالی کا رہائشی تھا یہ پانچ ۔۔۔

20 سال تک سرگودہا پر راج کرنے والے بدمعاش کی سبق آموز سچی کہانی : چوہدری غلام حسین عرف باؤ جٹ سرگودہا کی تحصیل سلانوالی کا رہائشی تھا یہ پانچ بھائی تھے اور پانچ بہنیں تھیں ، باؤ جٹ کا بڑا بھائی منظور جٹ کاشتکاری کرتا جبکہ خود باؤ جٹ مویشی چراتا اور پالتا تھا ۔
انہی دنوں میں گاؤں کے کسی نوجوان نے اسکی بہن کے ساتھ تعلقات کی شیخی ماری یہ بات باؤ جٹ نے سن لی اور غیرت کے نام پر اپنی بہن کو ق۔ت۔ل کرکے تھانے پیش ہو گیا کچھ ہفتے بعد ہی باؤ کے بھائیوں اور والدہ نے اسکو معاف کرکے رہا کروا لیا رہائی کے چند روز بعد ہی باؤ جٹ نے دوسرا ق۔ت۔ل اس شخص کا کیا جس نے اسکی بہن کے ساتھ تعلقات کا دعویٰ کیا تھا ، یہ جرم کرکے باؤ جٹ اپنے علاقے سے فرار ہو گیا مفروری کے دنوں میں باؤ جٹ کا رابطہ کسی ڈ۔کیت اور مفرور گروپ سے ہو گیا یہ بھی ان میں شامل ہوا اور لو۔ٹ مار بھتہ خوری کی وارداتیں ڈالنے لگا پولیس اسکی تلاش میں تھی کئی بار اسکا پولیس سے مقابلہ ہوا جس میں یہ پولیس کا جانی نقصان کرکے بچتا اور فرار ہوتا رہا۔ اپنے افسران اور اہلکاروں کی جان لینے والے مجرم کو پولیس کبھی معاف نہیں کرتی ، باؤ جٹ کی بدقسمتی بھی یہی تھی۔
یہ 1990 کی بات ہے اور اس دور میں حکومت نے باؤ جٹ کی زندہ یا مردہ گرفتاری و حوالگی پر 10 لاکھ روپیہ انعام مقرر کیا تھا پولیس کے علاوہ سلانوالی کا چیمہ خاندان بھی باؤ جٹ کا دشمن تھا کیونکہ اس نے ان کے بیٹے کے خو۔ن سے ہاتھ رنگے تھے لیکن اس دوران مفرور باؤ جٹ ایک بار اپنے گاؤں آیا اور چیمہ برادری کے ایک اور شخص کو نشانہ بنا کے پھر فرار ہو گیا ، باؤ جٹ پنجاب کا وہ واحد اشتہاری مجرم ہے جو 15 سال سے زائد عرصہ پولیس اور اپنے مخالفوں کی آنکھوں میں دھول جھونکتا رہا اور کامیابی کے ساتھ بچتا بھی رہا اور مخالفوں کا جانی نقصان بھی کرتا رہا کہا جاتا ہے کہ باؤ جٹ نے چیمہ فیملی کے گھر کے سبھی مردوں کو ق۔ت۔ل کردیا تھا اور اس کا نام اور خوف سرگودہا سے نکل کر پورے پنجاب میں پھیل چکا تھا اور اس پر 302 سمیت سنگین مقدمات کے 100 سے زائد پرچے درج تھے۔
باؤ جٹ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنے گاؤں کی کئی غریب لڑکیوں کی شادیاں کروائیں ، کئی مستحقین کی مالی مدد کی ایسی ہی ایک عورت باؤ جٹ کی منہ بولی بہن بنی ہوئی تھی اور باؤ جٹ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کبھی کبھار اس بہن کے گھر رات گزارتا تھا ، پولیس کو پتہ چلا تو انہوں نے اس عورت کو قابو کر لیا اور اسکے ذریعے باؤ جٹ کا قصہ تمام کرنے کا پلان بنایا اس عورت سے باؤ کے سر کی انعامی رقم 10 لاکھ روپے فوری ادا کرنے کا وعدہ کیا گیا تو وہ تعاون پر راضی ہو گئی کچھ ہفتے بعد باؤ جٹ اس خاتون کے پاس آیا تو اس نے مخبری کر دی اور پولیس فوری موقع پر پہنچی باؤ جٹ مقابلہ بھی نہ کر سکا اور اسے ایک ساتھ کئی بر۔سٹ مار کر بھون دیا گیا ۔۔۔۔۔۔ یوں غیرت کے نام پر اپنی بہن کے لہو سے ہاتھ رنگنے کے بعد درجن بھر لوگوں کا قا۔تل اپنے بھیانک انجام کو پہنچ گیا ۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *