بھائی کے خو ن کا بدلہ لینے کے لیے مخالفوں کا خاندان مٹا دینے والے ناجی بٹ کی کہانی جس نے ایک ہی لمحے میں۔۔۔۔

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)بھائی کے خو۔ن کا بدلہ لینے کے لیے مخالفوں کا خاندان مٹا دینے والے ناجی بٹ کی کہانی : ناجی بٹ : پسرور کے ایک گاؤں کا نوجوان جو رزق کمانے لاہور آیا مگر حالات نے اسے بدمعاش بنا دیا : نواز عرف ناجی بٹ اپنے 3 بھائیوں اور والد و اہل خانہ کے ہمراہ لاہور روزی روٹی کے چکر میں آیا اور شاد باغ میں قیام کیا۔

نواز ایک مٹھائی کی دکان پر لگ گیا باقی تین بھائی بھی مختلف کاموں پر لگ گئے کچھ عرصہ گزرا سب بھائیوں نے ملکر ایک چھوٹا سا مکان بھی خرید لیا ، وقت بہت اچھا گزر رہا تھا اس دوران اسی علاقے میں اس خاندان کا ایک اور بٹ خاندان سے تعلق بن گیا ، جو کہ علاقہ میں اچھا خاصا اثر رسوخ اور دبدبہ رکھتا تھا کیونکہ اس فیملی کا ایک بیٹا پولیس میں انسپکٹر تھا یہ تعلق اتنا بڑھا کہ ناجی بٹ کے ایک بھائی کا رشتہ اس انسپکٹر پرویز بٹ کی بہن کے ساتھ طے ہو گیا اور شادی بھی ہو گئی۔ اسی علاقے میں نواز عرف ناجی کی دوستی ایک جواری سے بھی ہو گئی یہ جواری ایک دن جوئے میں کچھ رقم جیت گیا مگر جوا کرانیوالوں نے اسے رقم دینے سے انکار کر دیا وہ شکایت لے کر اپنے دوست ناجی بٹ کے پاس گیا کہ اپنے رشتہ دار بٹ فیملی کو کہہ کر میری رقم دلوا دو جو میں نے جیتی ہے جوا کرانیوالے ناجی بٹ کی فیملی کی نئی رشتہ دار بٹ فیملی تھی ۔۔ ناجی کا بھائی سرور اس معاملے میں اپنے سسرال گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ تم اپنے کام سے کام رکھو ان چکروں میں نہ پڑو ، ہمارا کام کیا ہے ہم نے کیا کرنا ہے یہ ہمیں پتہ ہے ۔۔۔ چند روز بعد ناجی بٹ کے ایک دوست کے مکان پر انہی بٹ صاحبان نے قبضہ کر لیا دوست نے ناجی کو کہا کہ تمہارے رشتہ داروں میں میرے مکان پر قبضہ کر لیا ہے تم انہیں کہو کہ میرا مکان خالی کر دیں۔

ناجی بٹ نے اپنے رشتہ دار تھانیدار بٹ گروپ سے بات کی تو انہوں نے نہ صرف انکار کیا بلکہ ناجی بٹ کو بے عزت بھی کیا کہ تم ان لوگوں کے مامے لگتے ہو جو منہ اٹھا کر آجاتے ہو ، ہم نے تمہارے ساتھ رشتہ کرکے کونسی غلطی کی ہے : کچھ روز بعد ناجی کا ایک بھائی طاہر پھر انہی معاملات میں بات کرنے تھانیدار بٹ گروپ کے گھر چلا گیا مگر اسکے بعد اسکا کچھ پتہ نہ چلا ۔۔۔ گمشدگی کے اعلان ہوئے تلاش شروع ہوئی تو ناجی نے لوگوں سے سنا کہ اسکے بھائی کو اسکے رشتہ دار بٹ خاندان نے مار کر غائب کردیا ہے ۔۔ کچھ ہفتے گزرے پرویز بٹ تھانیدار نے کسی کے سامنے بڑھک ماری کہ جو ہم سے ٹکر لیتا ہے ہم اسے لوہے کی بھٹی میں ڈال کر پگھلا دیتے ہیں اسکی میت بھی نہیں ملتی ۔۔ یہ بات کسی طرح ناجی بٹ کے کانوں تک پہنچ گئی جب ناجی کو اس بات کا یقین ہو گیا تو اس نے طے کر لیا ہے کہ ان نام نہاد رشتہ داروں نے میرا بھائی مارا ہے میں انکا سارا خاندان ختم کردونگا ، چند روز بعد ناجی بٹ اپنے ایک اور دوست کو لیکر طاہر بٹ انسپکٹر کے پاس پہنچ گیا اور اس سے پوچھا بتاؤ میرا بھائی کہاں ہے تم نے اس کے ساتھ کیا کیا ۔تھانیداری اور بدمعاشی کے خمار میں طاہر بٹ نے کہہ دیا کہ میں نے تمہارا بھائی بھٹی میں ڈال کر مار دیا ہے اب تم سے جو ہوتا ہے کر لو ۔۔۔ یہ سن کر ناجی بٹ کے تن بدن میں آگ لگ گئی اس نے اور اسکے دوست نے فائیر۔نگ کرکے طاہر بٹ اور اسکے دو ساتھیوں کو اسی موقع پر ق ت ل کردیا اور فرار ہو گئے ۔

کچھ عرصہ مفرور رہنے کے بعد ناجی بٹ اور اسکے ساتھیوں نے برقعے پہن کا جدید اسل حے اور گر۔نیڈوں سے پرویز بٹ انسپکٹر کے گھر پر دھاوا بول دیا یہ اٹیک اتنا شدید تھا کہ بٹوں کے گھر کی چھت بھی اڑ گئی اس واقعہ میں اس خاندان کے 6 افراد جان کی بازی ہار گئے کچھ عرصہ بعد پولیس نے ناجی بٹ کو کسی بند مکان میں گھیر لیا ، ناجی کو وارننگ دی گئی کہ خود کو پولیس کے حوالے کردو آج تمہاری کوئی بچت نہیں ۔۔ تو ناجی بٹ کلاشن کوف کندھے پر لٹکا کر اور دو گر۔نیڈوں کی پنیں نکال کر انہیں اپنی دونوں مٹھیوں میں دبا کر باہر آگیا اور بولا پولیس والو میں جان ہتھیلی پر رکھ کر پھر رہا ہوں ، اگر مجھے پکڑنے کی کوشش کی تو دونوں گر۔نیڈ اڑا دونگا ۔۔۔ کہا جاتا ہے پولیس والوں نے منہ دیوار کی طرف کر لیے یا لیٹ گئے اور ناجی بٹ آرام سے وہاں سے فرار ہو گیا مگر کچھ ماہ بعد ناجی بٹ پولیس کے ہتھے چڑھ گیا اسے مختلف مقدمات مین گوجرانوالہ جیل بھیج دیا گیا ۔۔ ابھی اسے جیل کی دال کھاتے کچھ ہی ہفتے ہوئے تھے کہ انسپکٹر نوید سعید کو اعلیٰ حکام کی طرف سے حکم ملا کہ ناجی بٹ کو گوجرانوالہ سے لاہور لایا جائے ، حسب حکم نوید سعید ناجی بٹ کو لاہور لا رہے تھے ، کالا خطائی روڈ پر ایک مقابلہ ہوا جس میں بتایا گیا کہ ناجی کے دوست ہمایوں گجر نے اپنے دوست کو چھڑانے کے لیے پولیس پارٹی کو روک لیا اور کراس فائیر۔نگ میں ناجی بٹ نشانہ بن گیا ۔۔۔ یوں درجنوں مقدمات میں مطلوب اور اپنے مخالفین کا نام نشان مٹانے والا ناجی بٹ بھی انجام کو پہنچا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *