
لاہور کریسینٹ سکول کے لیکچر کے دوران ایک ٹیچر کارڈیک اریسٹ سے وفات پاگئے،ویسے ہونے کو تو کبھی بھی کُچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن۔۔۔
بتایا جا رہا ہے کہ لاہور کریسینٹ سکول کے لیکچر کے دوران ایک ٹیچر کارڈیک اریسٹ سے وفات پاگئے ۔
ویسے ہونے کو تو کبھی بھی کُچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن جیسے پاکستان کے کھانے پینے کے معاملات ، حالات اور ہماری عادات ہیں ؛ کوشش کریں کہ دو سے تین مہینوں بعد اپنا مکمل بلڈ ٹیسٹ کروائیں ، لِپڈ پروفائل چیک کریں ، گردوں کی صحت مانیٹر کریں ، کولیسٹرول لیول پر نظر رکھیں ۔ میں مانتا ہُوں کہ سب کے لیے مہنگائی کے اِس دور میں یہ سب کرنا آسان نہیں ہے لیکن اپنی صحت پر دھیان دیں ۔ جان ہے تو جہان ہے ۔
ممکن ہو تو سادہ کھانا کھائیں ، بھوک باقی ہو تو کھانے سے ہاتھ کھینچ لیں ، تلی ہُوئی اشیا ، میٹھے ، زیادہ گندم و چاول کھانے سے کِنارہ کریں ۔ ہماری نفسیات ہے کہ جب تک ہم روٹی نہ کھا لیں ہمارا پیٹ نہیں بھرتا لیکن اِس عادت پر کنٹرول کریں ۔ ورزش کے لیے وقت نکالیں اور نہیں تو باقاعدگی سے واک کریں ۔ سب کے پاس سمارٹ فونز ہیں ، اُس کی ایپ میں اپنے فُٹ سٹیپس کا دھیان رکھیں اور دَس ہزار قدم روز نہ کر سکتے تو چار پانچ ہزار تو چلیں ناں جی ۔ گھر سے قریب جگہوں پر خریداری کے لیے پیدل جائیں ۔
یہ چھوٹی چھوٹی چند لائیف سٹائیل تبدیلیاں آپ کو فائدہ دیں گی ۔
دِل کے مسائل بہت پیچیدہ ہیں ، بہت گہرائی میں جا کر مطالعہ کریں تو حیرت ہوتی ہے کہ یہ دھڑک ہی کیسے رہا ہے لیکن پھر بھی پچانوے فیصد سے زائد اموات جو دِل کی دھڑکن رُک جانے سے ہوتی ہیں وُہ اچانک نہیں ہوتی ہیں بلکہ اُن کے پیچھے لمبی تاریخ موجود ہوتی ہے ۔
Leave a Reply