چند روز قبل ہم نے آصف نامی اس نوجوان کی پوسٹ لگائی تھی جو 1992 میں امام بری سرکار کے دربار سے اغواء ہوئے تھے۔

گزشتہ چند روز قبل ہم نے آصف نامی اس نوجوان کی پوسٹ لگائی تھی جو 1992 میں امام بری سرکار کے دربار سے اغواء ہوئے تھے۔
آصف کی پوسٹ دنیا بھر میں وائرل ہوئی اور بہت زیادہ لوگوں نے شئیرنگ کی اور رابطے کرکے دعائیں بھی دیں اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
بہت سارے وگوں نے ریچ بڑھانے کے لیے افسانہ بھی قرار دیا۔۔۔۔۔اور اس کیس میں ایک تلخ موڑ بھی آیا جو بہت پریشان کن بھی بنا۔
اب خبر یہ ہے کہ اس کھیل میں سنسنی خیز موڑ آچکا ہے، آخری بال پر چھ رنز باقی ہیں!
اسلام آباد سے ایک فیملی نے رابطہ کیا ہے انکا دعویٰ ہے کہ یہ ہمارا بچہ ہے جو دوسال کی عمر میں بری امام سرکار سے اغواء ہوا ہے۔اور انہوں نے تھانہ سیکرٹریٹ میں رپورٹ بھی کی تھی۔
انکا بچہ بھی 1992 میں بری امام سے اغواء ہوا تھا اور آصف بھی۔ انکا بچہ بھی دو سال کا تھا اور آصف بھی۔
انکے بچے کے سر بھی میں بالوں کی لٹھ چھوڑی گئی تھی اور آصف کے سر میں بھی لٹھ تھی۔
اس فیملی نے اپنے اس گمشدہ بچے کی دو تصاویر بھیجی ہیں وہ ہم نے آصف کو بھیجیں۔
جنہوں نے آصف کی پرورش کی انہوں نے تصویر دیکھ کر آصف کو بتایا کہ تم بالکل ایسے ہی تھے۔ اور آصف کو بھی آنکھ ہونٹ ناک سے یہی لگ رہا۔
لیکن میں نے اس خاندان سے ڈی این اے کراکر مکمل تسلی کی درخواست کی۔ الحمدللہ کل والد ہونے کے دعویدار کے سیمپل لئے گئے اور آج آصف کے سیمپل لئے گئے ہیں۔ دعویداروں نے ٹیسٹ کی فیس 30 ہزار روپے خود ادا کئے اور آصف کے ہم نے ایک دوست کی طرف سے ادا کئے۔
یہ سیمپل جرمنی جائیں گے وہاں میچ ہونگے رپورٹ دو ہفتے بعد آئےگی۔
یہ خبر دینی نہیں تھی کیونکہ خدانواستہ اگر میچ نا ہو تو بہت مایوسی ہوتی ہے۔ لیکن صرف اور صرف اس لئے آگاہ کررہے ہیں تاکہ آپ سب دعا کریں اور آصف کو اپنے حقیقی والدین بہن بھائی مل جائیں۔
ان شاءاللہ اگر رپورٹ اچھی آئی یہی ورثاء ہوئے تو یہ ہمارے لئے بہت ہی بڑی عظیم خوشخبری ہوگی ۔
ان شاءاللہ آصف کو انکے ورثاء سے دھوم دھام سے ملائیں گے اور اسلام آباد میں سب ملکر پارٹی کریں گے۔
دعاؤں کی درخواست ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *