
عظیم عورت نے مردوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے بھارتی سیاست کا منظر نامہ بدل دیا ، بڑا سیاسی معرکہ جیت لیا
جنوبی بھارت کی سیاست میں بڑا اپ سیٹ، سیاست کا پلڑا ہی بدل گیا، جہاں ایک نوجوان مسلم خاتون نے نئی تاریخ رقم کر دی۔ مسلم رہنما فاطمہ تہلیہ نے پیرمبرہ اسمبلی حلقے سے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے انڈین یونین مسلم لیگ کی پہلی خاتون ایم ایل اے بننے کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔
فاطمہ تہلیہ نے کسی عام امیدوار کو نہیں کمیونسٹ پارٹی کے طاقتور رہنما ٹی پی رام کرشن کو شکست دے کر سیاسی حلقوں کو حیران کر دیا، جبکہ ان کے حق میں پڑنے والے 81 ہزار 429 ووٹ اس کامیابی کو مزید غیر معمولی بنا گئے۔
یہ وہ حلقہ تھا جہاں کئی دہائیوں سے بائیں بازو کی سیاست کا غلبہ قائم تھا، مگر ایک نوجوان مسلم خاتون نے اپنی بھرپور انتخابی مہم، مضبوط مؤقف اور عوامی رابطے کے ذریعے سیاسی منظرنامہ بدل کر رکھ دیا۔
فاطمہ تہلیہ قانون کی تعلیم یافتہ وکیل ہیں جو خواتین کے حقوق، حجاب کے معاملے اور عوامی مسائل پر مسلسل آواز بلند کرتی رہی ہیں۔بھرپورانتخابی مہم نے فاطمہ کی مقبولیت کوآسمان تک پہنچادیا۔
انتخابی مہم کے دوران شدید آن لائن تنقید اور مذہبی بنیادوں پر حم*لوں کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور آخرکار ایک تاریخی کامیابی اپنے نام کر لی، جسے خواتین اور نوجوانوں کے لیے امید کی نئی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
Leave a Reply