چودہ سو (1400)مربع زمین کے مالک وہاڑی کے میاں ممتاز احمد دولتانہ کا وہ واقعہ جسے بڑے۔۔۔

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) 1400 مربع زمین کے مالک وہاڑی کے میاں ممتاز احمد دولتانہ کا وہ واقعہ جسے بڑے بوڑھے آج بھی یاد کرتے ہیں۔۔۔ بہاولپور تب ریاست تھی وہاں ایک نوجوان غصے میں آکر ق.ت.ل کر بیٹھا اسکا والد فوت ہو چکا تھا اور وہ اپنی ماں اور ایک بہن کا اکلوتا سہارا تھا ، نوجوان کو ریاست کی پولیس نے گرفتار کیا اور نواب آف بہالپور سر صادق خان کی جیل میں ڈال دیا گیا جہاں اسے موت کی سزا ہوئی اب وہ اپنی زندگی کے دن گن رہا تھا ۔اس نوجوان کی بوڑھی ماں نے کئی بڑے لوگوں کی منت سماجت کی کہ اسکے بیٹے کی سزا معاف کرا دیں لیکن کوئی مدد نہ کرسکا ، ایک روز کسی نے اس ماں کو وہاڑی کے میاں ممتاز احمد دولتانہ کا بتایا وہ اسی روز سفر پر نکلی اور دوسرے روز شام کو دولتانہ صاحب کی رہائش گاہ کے دروازے پر بیٹھی تھی ، میاں ممتاز دولتانہ شام کو گھر آئے تو اس بزرگ خاتون کو اندر لے گئے کھانا کھلایا اور پھر اس سے ماجرا پوچھا ، سارا احوال جان کر میاں ممتاز احمد دولتانہ نے ایک چٹ نواب آف بہالپور سر صادق خان کے نام لکھی اور بزرگ خاتون کے حوالے کردی ، خاتون نہ کہا اگر آپ خود میرے ساتھ چلیں تو وہ آپ کی بات نہ ٹالتے لیکن میاں صاحب نے کہا اگر کوئی میری چٹ کا اور میرے نام کا خیال نہ کرے تو مجھے ایسے شخص کے پاس جانے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم اللہ کا نام لو اور انکے پاس جاؤ ۔۔۔ وہ خاتون واپس بہاولپور گئی اور نواب صاحب کے محل کے دروازے پر پہنچ گئی ، محافظوں نے جب میاں ممتاز دولتانہ کے نام کی چٹھی دیکھی تو دوڑے ہوئے اندر گئے ، نواب صادق خان نے چٹھی دیکھ کر ماں جی کو اندر بلا لیا اور ایک غریب خاتون کے استقبال کے لیے خودکھڑے ہو گئے اور کھڑے کھڑے حکم جاری کیا ، بزرگ خاتون بے فکر ہو کر گھر چلی جاؤ کل تمہارا بیٹا آزاد ہو گا ۔۔۔دوسرے روز حسب وعدہ نواب صادق نے مق۔تول شخص کے لواحقین کو بلایا انہیں دیت کی رقم اپنی جیب سے ادا کی اور ہدایت کی کہ اللہ کی رضا کے لیے اس شخص کو معاف کردیں ۔ چند دن گزرے اور اس شخص کو رہا کر دیا گیا ۔۔۔ سچ کہتے ہیں کہ انسان خود مر جاتا ہے مگر اسکے اچھے اعمال زندہ رہتے ہیں ۔ وہ بوڑھی خاتون ، اسکا جوان قیدی بیٹا اور نواب صادق و ممتاز دولتانہ سب اس دنیا سے چلے گئے لیکن انکا یہ فعل آج بھی لوگوں کو یاد ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *