
اللہ معاف فرمائے ، والدین نے کم عمری میں ان معصوم بچوں کی شادی کروا دی مگر پہلے ہی۔۔۔
کم عمر جوڑے کا غیرقانونی نکاح پڑھانے کے الزام میں امام مسجد کو ساڑھے تین ماہ قید کی سزا
برطانیہ میں 18 سال سے کم عمر لڑکے اور لڑکی کی شادی جرم قرار دی گئی ہے، اور اسی جرم میں امام مسجد و نکاح خواں اشرف عثمانی کو 3 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق نارتھمٹن کراؤن کورٹ نے بتایا کہ نومبر 2023 میں ہونے والے اس نکاح کے وقت دونوں فریقین کی عمر 16 سال تھی۔ عدالت کے مطابق یہ شادی قانونی عمر (18 سال) سے کم ہونے کی وجہ سے غیر قانونی تھی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ 52 سالہ اشرف عثمانی نے کم عمر افراد کا نکاح پڑھانے کے دو الزامات تسلیم کیے، اور نکاح پڑھانے کے عوض انہوں نے 50 پاؤنڈ فیس بھی وصول کی تھی۔ نکاح کے بعد جوڑے نے جشن بھی منایا۔
سماعت کے دوران ملزم نے عدالت کو بتایا کہ انہیں شادی کی کم از کم عمر کے قانون میں حالیہ تبدیلی کا علم نہیں تھا اور اگر انہیں معلوم ہوتا تو وہ یہ نکاح نہیں پڑھاتے۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ جوڑا پہلے ایک اور مسجد گیا تھا جہاں کم عمری کی وجہ سے نکاح پڑھانے سے انکار کیا گیا تھا، تاہم بعد میں اشرف عثمانی نے نکاح پڑھا دیا۔
جج نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں کسی قسم کا ت*شدد یا دباؤ شامل نہیں تھا اور جوڑا اپنی مرضی سے نکاح کروانے آیا تھا۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ کم عمر افراد کی شادی کے قانون کی خلاف ورزی ایک سنگین جرم ہے، چاہے فریقین رضامند ہی کیوں نہ ہوں۔
Leave a Reply