
دشمنی کیسے کیسے نوجوان کھا گئی،فیصل آباد کے ایک بہادر دشمن دار نوجوان بلال چیمہ کی زندگی کا ایک۔۔۔
دشمنی کیسے کیسے جوان کھا گئی : فیصل آباد کے ایک بہادر دشمن دار نوجوان بلال چیمہ کی زندگی کا ایک زبردست واقعہ جب اسکے جگری یار عبدالرحمان بندیشہ پر پہلا قا۔تلانہ حم۔لہ ہوا۔
عبدالرحمان بندیشہ کی نثار جٹ کے ساتھ دشمنی تھی اس دشمنی میں بلال چیمہ ہر قدم پر اسکے ساتھ رہا ، دشمنی کی شدت کی وجہ سے بلال چیمہ اپنا گھر چھوڑ کر رات کو بھی عبدالرحمان بندیشہ کے ڈیرے پر رہتا تھا ، وہ اس اصول کا قائل تھا کہ دوست کی خاطر جان بھی چلی جائے کوئی پروا نہیں ، جب عبدالرحمٰن بندیشہ پر پہلا قا۔تلانہ حم۔لہ ہوا تو بلال چیمہ اسکے ساتھ تھا ، بلال چیمہ نے عبدالرحمان بندیشہ کو اس قا۔تلانہ حملے کا مقدمہ درج کروانے سے روک دیا اور کہا کہ اس واقعہ کا بدلہ لینا ہے۔کچھ روز بعد پتہ چلا کہ ایک پولیس ڈی ایس پی خرم کا اس واقعہ میں کردار تھا ، نثار جٹ کے کہنے پر ڈی ایس پی خرم آغا نے بندے بھجوائے جن میں شاید کچھ پولیس والے بھی سادہ کپڑوں میں تھے ، چنانچہ ان اطلاعات کی تصدیق کرنے کے بعد بلال چیمہ ایک روز اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ ڈی ایس پی خرم کے دفتر چلا گیا ، ڈی ایس پی نے اس واقعہ میں ملوث ہونے سے انکار کیا تو ان کے درمیان بحث ہوئی اور بلال چیمہ نے ڈی ایس پی کو اسکے دفتر کے اندر نہ صرف گریبان سے پکڑ لیا بلکہ تھپڑ بھی مارے ۔ پولیس والوں نے بچ بچاؤ کروایا ، اسکے بعد بلال چیمہ اور اسکے ساتھیوں پر ناجائز مقدمات دے کر انہیں گرفتار کر لیا ۔
عبدالرحمان بندیشہ کو اس واقعہ کی اطلاع ملی تو اس نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا اور اپنے تایا چوہدری الیاس چونٹھیا کے ایک بااثر دوست کو کہہ کر چند گھنٹوں میں بلال چیمہ کو حوالات سے نکلوا کر گھر لے آیا ، اب بلال چیمہ نے ڈی ایس پی خرم کو پیغام بھجوا دیا کہ تم نے دشمنوں کے کہنے پر میرے دوست کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے لہذا انجام کے لیے تیار ہو جاؤ ، ڈی ایس پی خرم اس وارننگ پر اس قدر خوفزدہ ہوا کہ اس نے محکمے سے چھٹی لے لی اور روپوش ہو گیا مگر بلال چیمہ نے اس کا سراغ لگایا اور ایک روز اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اسے اسکے گھر سے اغ۔وا کرکے اپنے ایک خفیہ ٹھکانے پر لے گیا ، جہاں اسے چار روز رکھا گیا اور کسی کو خبر بھی نہ ہوئی ۔ڈی ایس پی خرم نے باقاعدہ طور پر بلال چیمہ سے پچھلی غلطی کی معافی مانگی اور آئندہ ایسا کوئی کام نہ کرنے کا وعدہ کر لیا ، اس دوران عبدالرحمان بندیشہ کو بھی بلال چیمہ کے اس اقدام کا علم ہو چکا تھا اس نے فوری طور پر بلال چیمہ سے رابطہ کیا کہ ڈی ایس پی کو کوئی نقصان پہنچائے بغیر اسکے گھر پہنچا دیا جائے ، اس طرح ڈی ایس پی خرم کی جان چھوٹی، بعد میں نثار جٹ نے ڈی ایس پی خرم آغا کو استعمال کرنا چاہا تو اس نے انکار کر دیا چنانچہ اسکا تبادلہ کروا دیا گیا اور ایک نیا ڈی ایس پی بابر باجوہ اس علاقے میں تعینات ہوا ۔
اکثر سیاستدانوں کی طرح نثار جٹ نے اسے بھی استعمال کرنا چاہا ، کچھ ماہ گزرے تو عبدالرحمان بندیشہ پر دوسرا قا۔تلانہ حم۔لہ ہوا ، اس حملے میں بھی بلال چیمہ اسکے ساتھ تھا اور خوش قسمتی سے یہ لوگ بچ گئے جب اس واقعہ میں بابر باجوہ کر کردار سامنے آگیا تو بلال چیمہ نے اسے وارننگ دی اور اسکا پیچھا کرنا شروع کیا ۔جان بچانے کے لیے بابر باجوہ بیرون ملک چلا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ جب یہ دشمنی انتہا پر تھی تو کچھ لوگوں نے عبدالرحمان بندیشہ اسکے دوست بلال چیمہ اور انکے مخالف نثار جٹ کے درمیان صلح کروا دی مگر صلح ہونے اور دعائے خیر کے باوجود کچھ عرصے بعد نثار جٹ کے لوگوں نے عبدالرحمان بندیشہ پر ایک خوفناک اٹیک کیا جس میں عبدالرحمان بندیشہ شدید زخمی ہوا ، بلال چیمہ نے موقع پر جوابی وار کیا اور متعدد حم۔لہ آوروں کو ڈھیر کر دیا اسکے بعد وہ زخمی عبدالرحمان بندیشہ کو لے گاڑی میں انتہائی تیز رفتاری سے لے کر بھاگا مگر ہسپتال پہنچے سے پہلے عبدالرحمان بندیشہ نے دم توڑ دیا اس روز اس ہسپتال میں وہ کہرام مچا تھا کہ دیکھنے والے بھی اشکبار ہو گئے تھے ، بلال چیمہ نے عبدالرحمان بندیشہ کی قبر پر کھڑے ہو کر باآواز بلند قسم کھائی تھی کہ عبدالرحمان تیرے دشمنوں کی اب خیر نہیں ، لیکن شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا ابھی بلال چیمہ ایک کاری وار کی پلاننگ کررہا تھا کہ عبدالرحمان کے ق۔ت۔ل کے 15 روز بعد اسے بھی ایک سازش کے تحت ٹوبہ ٹیک سنگھ بلایا گیا اور مخالفین نے اس پر بھی خوفناک قا۔تلانہ حم۔لہ کیا جس میں بلال چیمہ اپنے ساتھیوں سمیت جان کی بازی ہار گیا ۔۔۔ اللہ کریم اس بہادر نوجوان کے درجات بلند فرمائے آمین۔
Leave a Reply