
اربوں کے اثاثوں کی مالک خاتون آج لاہور کی سڑکوں پر ایک پرانی کار میں رہنے پر مجبور کیوں؟۔۔۔
قسمت کے کھیل اور تقدیر کا چکر : اربوں کے اثاثوں کی مالک ، پوری دنیا دیکھنے والی خاتون بینکار آج لاہور کی سڑکوں پر ایک پرانی کار میں رہنے پر مجبور کیوں؟ وہ جسے مریم نواز شہباز شریف عمران خان سمیت ہر مشہور پاکستانی جانتا ہے ، آج اسکی زندگی چند کتوں اور بلیوں تک محدود کیسے ہوگئی ؟ ایک سبق آموز اور سچی کہانی.
عذرا آپا نے ایک دو نہیں 9 بار ایم اے کیا، انگلینڈ کی مشہور یونیورسٹی سے ڈپلومے کیے ، بنکاری کے شعبے میں وہ کامیاب خاتون تھیں ، انکی دولت کا یہ عالم تھا کہ اگر لندن میں ہوتیں اور لاہور ناشتہ کرنے کادل کرتا تو اسی دن لاہور کے لیے روانہ ہوتیں ، یہاں کھانا کھا کر پھر روانہ ہوتیں اور اگلے روز پھر لندن پہنچ جاتیں : انکے لندن میں کئی فلیٹس اور جائیدادیں تھیں ، 90 کی دہائی میں 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے والا جوتا پہنتی تھیں مگر افسوس آج انکے پاؤں میں پلاسٹک کی ایک ٹوٹی ہوئی قینچی چپل ہے انکے رہنے کو گھر نہیں : وہ ان حالات میں کیسے پہنچیں : عذرا آپا کے بقول وہ انگلینڈ میں ایک بڑے بنکنگ ادارے BCCI سے منسلک تھیں اور اسکے شیئر ہولڈرز میں شامل تھیں ، یہودی بنکاروں نے سازش کی اور انکے ادارے کو تحویل میں لے لیا گیا شیئر ہولڈرز کی ساری جائیدادیں بنک اکاؤنٹس ضبط کرلیے گئے ۔ انگلینڈ سے وہ قلاش ہو کر نکلیں اور پاکستان آگئیں ، کراچی میں انکی وراثتی جائیداد تھی مگر اسے انکی والدہ نے اچھے دنوں میں عبدالستار ایدھی کی فاؤنڈیشن کو عطیہ کردیا تھا.
چنانچہ اس سے بھی محروم ہو گئیں ، انکی اپنی کچھ جائیداد تھی وہ بیچ کر ایک بوتیک کھولا مگر پارٹنرز نے دھوکا کیا چنانچہ وہ سڑکوں پر آگئیں انکے پاس جو کچھ بچا تھا اس سے ایک کار خریدی کچھ عرصہ کرائے کے گھر میں رہیں مگر پھر بیمار پڑ گئیں تو کوئی ذریعہ آمدن نہ رہا چنانچہ کرائے کا مکان خالی کرکے لاہور مین مارکیٹ کے نواح میں اپنی کار میں سڑک کنارے رہنے لگیں ، اور عرصہ 7 سال سے اسی حالت میں زندگی گزار رہی ہیں ، عذرا آپا کے بقول مجھے کسی سے کوئی شکوہ نہیں شاید قسمت میں یہ سب لکھا تھا آج بھی اچھے دنوں کی امید پر جی رہی ہوں ، عدالت میں کیس بھی لڑ رہی ہوں ، جو چیز کھانے کودل کرتا ہے ، بیٹھے بٹھائے کوئی اللہ کا بندہ آکر دے جاتا ہے ۔ اب ایک ہی خواہش ہے کہ مجھے مال دولت بے شک واپس نہ ملے لیکن ایک بار حج کر آؤں، اپنی قسمت پر شاکر ہوں ، اللہ ہر کسی کو برے وقت سے بچائے ۔۔۔۔۔۔
Leave a Reply