
خبردار۔۔۔اس گاؤں میں سخت دشمنی ہے شناخت کرائے بغیر داخل نہ ہوں،کامونکی کا وہ علاقہ۔۔۔
خبردار : اس گاؤں میں سخت دشمنی ہے شناخت کرائے بغیر داخل نہ ہوں : کامونکی کے علاقہ تھانہ واہنڈوکا گاؤں سکھانہ باجوہ : اپھو ٹن ٹن اور جیلانی گروپ کی وہ دشمنی جس نے ہنستا بستا گاؤں اجاڑ کر رکھ دیا ، 100 افراد خونی دشمنی کی نذر ہو گئے۔
باجوہ فیملی اس گاؤن کی معزز اور اچھی فیملی تھی جسکے مرد شریف کھیتی باڑی کرنے والے یا ملازمت پیشہ تھے جبکہ اسی گاؤں کا ایک اور خاندان جیلانی گروپ تھا جو بدمعاشی اور غنڈہ گردی کے لیے مشہور تھا 1980 کی دہائی کی بات ہے جب باجوہ فیملی کے گھر کے سامنے ایک پلاٹ پر جیلانی گروپ نے قبضہ کر لیا ، یہ پلاٹ کسی کمزور مگر تیسرے فریق کا تھا چوہدری محمد الٰہی باجوہ نے کمزور کا ساتھ دیا اور معاملہ کچیری لے گئے اس رنجش پر جیلانی گروپ نے چوہدری محمد الٰہی کے گھر پر دھاوا بول دیا جس میں باجوہ گروپ کے چوہدری محمد الٰہی سمیت 6 افراد ق۔ت۔ل ہو گئے یوں ایک خونی دشمنی کی ابتدا ہوئی اس بربریت کے باوجود باجوہ خاندان نے قانونی راستہ اختیار کیا اور چوہدری محمد الٰہی کے چھوٹۓ بھائی چوہدری منظور کیس کے مدعی بنے اور انصاف کے لیےتھانے اور عدالت سے رجوع کیا تو مفرور جیلانی گروپ نے کیس کی پیروی کرنے والے ماسٹر منظور باجوہ کو بھی ق۔ت۔ل کر دیا اب تیسرے بھائی اعجاز باجوہ نے بھائیوں کے ق۔ت۔ل کے مقدمات کی پیروی شروع کردی۔
مخالفین نے شایدارادہ کر لیا تھا کہ اس پورے خاندان کو صفحہ ہستی سے مٹانا ہے چنانچہ اعجاز باجوہ کو بھی اسکے ساتھیوں سمیت ق۔ت۔ل کردیا گیا اب ق۔ت۔ل ہونیوالوں کا ایک بھائی زندہ تھا جسکا نام فضل الٰہی تھا ، فضل الٰہی باجوہ کیس کی پیروی کرنے لگا لیکن انکے بھائی منظور باجوہ کا ایک دوست اور رشتہ دار افضل باجوہ تھا جو واپڈا ملازم تھا وہ اپنے دوست اور اسکے بھائیوں کے ق۔ت۔ل پر اکثر اظہار افسوس کرتا پایا جاتا ، کسی نے اسے طعنہ دیا کہ فضول ٹیں ٹیں کرتے ہوئے اگر ہمت ہے تو اپنے دوست اور اسکے بھائیوں کے ق۔ت۔ل کا بدلہ لو ، افضل باجوہ نے اس طعنے کا جواب دیا اور کہا ، لو پھر آج کے بعد تم افضل باجوہ کی ٹیں ٹیں نہیں ٹن ٹن سنو گے ۔۔ چند روز بعد اس نے وہ کیا کہ پھر افضل باجوہ کا نام اپھو ٹن ٹن مشہور ہو گیا جو علاقے میں خوف کی علامت بن کر ابھرا ، افضل باجوہ نے اپنا واحد ٹریکٹر فروخت کیا اور جدید اسل۔حہ خرید لیا ، بھر پور تیاری کے ساتھ ایک روز وہ جیلانی گروپ کے گھر گھس گیا اور انکے تین افراد کو ق۔ت۔ل کر ڈالا پھر وہ اپنے مخالفین کی طرح گرفتاری دینے کی بجائے فرار ہو گیا ، کچھ عرصہ بعد جیلانی گروپ کے کچھ لوگ جو مفرور تھے وہ کہیں سفر کررہے تھے کہ اپھو ٹن ٹن کو خبر ہو گئی اس نے فوری کارروائی کی اور جیلانی گروپ کے چھ افراد کو نشانہ بنا ڈالا ۔
اب دشمنی اپھو ٹن ٹن اور جیلانی گروپ میں شروع ہو چکی تھی اصل باجوہ خاندان چپ کرکے بیٹھ گیا تھا ، اپھو ٹن ٹن اور جیلانی گروپ ایک دوسرے پر وار کرتے رہے اور متعدد واقعات میں درجنوں افراد ق۔ت۔ل ہو گئے ، اس گاؤں پر موت کا ایساسایہ پڑا کہ لوگ نقل مکانی کر گئے اور گاؤں ویرانہ بن گیا مگر اپھو ٹن ٹن اور جیلانی گروپ مفرور ہونے کے باوجود ایک دوسرے پر وار کرتے رہے ، اپھو ٹن ٹن اور جیلانی گروپ کی یہ دشمنی 90 سے زائد لوگوں کی زندگیوں کے چراغ گل کر گئی ، اپھو ٹن ٹن کے مخالفین تو اسکے ہاتھوں ق۔ت۔ل ہوئے مگر اپھو کے انجام کے حوالے سے دو تین کہانیاں مشہور ہیں واللہ اعلم سچائی کیا ہے ۔۔۔ ایک روایت ہے کہ اپھو ٹن ٹن کا پولیس کا ساتھ ایک مقابلہ اتنا طویل ہوا کہ اس کی اور اسکے ساتھیوں کی گو۔لیاں ختم ہو گئیں چنانچہ یہ لوگ پولیس کی فائیر۔نگ کانشانہ بنے ، دوسری کہانی یہ ہے کہ اپھو ٹن ٹن کے ایک دوست نے پولیس کی مدد کی اور اپھو کو نشا آور چیز کھلا دی جس کے باعث اپھو اور اسکے دو ساتھی بے ہوش ہو گئے اور پولیس نے بے ہوش اشتہاریوں کو نشانہ بنا دیا یوں علاقہ میں خوف کی علامت اور دوست کے ق۔ت۔ل کا بدلہ لینے کے لیے پرائی دشمنی اپنے گلے میں ڈالنے والا یہ خوفناک کردار اپنے انجام کو پہنچا ۔۔۔ اگر اپھو ٹن ٹن کے انجام کے حوالے سے کسی دوست کے پاس معلومات ہیں تو کمنٹس میں شیئر کر دیں ۔۔۔
Leave a Reply