
ایک طیارہ صرف ایک طیارہ کافی ھے پوری امت کی آنکھیں کھولنے کے لیے لیکن نہیں؟
ایک طیارہ صرف ایک طیارہ کافی ھے پوری امت کی آنکھیں کھولنے کے لیے لیکن نہیں؟
دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ کی تعمیری لاگت 1.5 بلین ڈالر جبکہ امریکہ کا ایک B-2 بمبار طیارہ 2.1 بلین ڈالر کا ہے کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہماری ترجیحات کیا ہیں؟ امتِ مسلمہ عمارتیں بلند کرتی رہی وہ قومیں اپنی سوچ بلند کرتی ہیں اسی لیے ہم پیچھے ہیں وہ آگے امریکہ ہر سال 900 بلین ڈالر دفاع پر خرچ کرتا ہے اور ہم ابھی تک فخر سے کہتے ہیں ہمارے پاس تیل ہے لیکن تیل سے عقل نہیں خریدی جا سکتی ہم صرف خواب بناتے رہے اور وہ منصوبے، ہم صرف دعائیں کرتے رہے اور وہ محنت، ہم تقاریر کرتے رہے اور وہ تحقیق کرتے رہے اور یہی بنیادی فرق ہے کسی بھی ترقی یافتہ اور زوال پذیر قوم میں؟ اگر ایک طیارہ ہماری سب سے بڑی عمارت سے مہنگا ہو سکتا ہے تو شاید ہمیں اپنی سوچ کا نقشہ بدلنے کی ضرورت ہے ہمیں صرف مسجدیں نہیں لیبارٹریاں بھی درکار ہیں، صرف عالم نہیں
سائنسدان بھی خوابِ غفلت سے بیدار نہ ہوئے تو وقت تاریخ کے کچرے دان میں ڈال دے گا (ویسے اب بھی تاریخ کے کباڑ خانے میں ہی ہیں) ہم نے بچوں کو ماضی کے قصے سنائے اور دشمن نے انہیں مستقبل کا ہنر سکھایا۔
نتیجہ:
ہم ماضی میں جیتے رہے
وہ مستقبل میں پہنچ گئے
Leave a Reply