استغفر اللہ ،کسی چیز کی کوئی حد ہوتی ہے مگر یہاں پر تو انتہا ہو گئی ،اس نوجوان لڑکی کو۔۔

  1. کہتتہ پانی دریا سے ملنے والی لاش کا معمہ حل ہو گیا ہے۔ یہ لاش ایک نوجوان خاتون کی تھی جس کی عمر تقریباً چوبیس پچیس سال بتائی جاتی ہے۔ چند دن قبل یہ لاش پولیس کو ملی ، تو پولیس نے اس کے ورثہ کو تلاش کرنے کے لیے جگہ جگہ اشتہار لگائے ،سوشل میڈیا پر پوسٹیں لگائیں، پوسٹمارٹم کے لیے ڈیڈی باڈی ہسپتال پہنچائی ، فنگر پرنٹ لیے تاکہ نادرہ کے ذریعہ سے لاش کی شناخت ہوسکے۔ مقتولہ کے ہاتھوں پر لگی مہندی اس کی نئی زندگی کے خوابوں کی گواہ تھی، لیکن جسم پر موجود تشدد کے نشانات ان مظالم کی داستان سنا رہے تھے جو اس پر ڈھائے گئے۔بعدازاں تحقیقات میں معلوم ہوا کہ اس خاتون کا تعلق لاہور سے تھا، جس کی شادی منڈھول آزاد کشمیر میں ہوئی تھی۔ جانے کتنے خواب آنکھوں میں سجا کر وہ پیا گھر سدھاری ہوگی۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ اسے مبینہ طور پر اس کے شوہر اور دیگر ساتھیوں نے بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا اور لاش کو دریا برد کر دیا۔

آزاد کشمیر پولیس نے اس اندھے قتل کی گتھی سلجھانے کے لیے دن رات ایک کیے اور نہ صرف قاتلوں تک جا پہنچی بلکہ مقتولہ کے ورثہ کو بھی تلاش کر لیا۔ یہ دیکھ کر حیرت اور دکھ ہوتا ہے کہ انسان اپنے ہی شریک حیات کی جان لینے کے درپے ہو جاتا ہے۔ کہیں کوئی بیوی اپنے شوہر کو مار کر کسی اور کے ساتھ سکون ڈھونڈنے کی کوشش کرتی ہے، تو کہیں شوہر بیوی کو راستے سے ہٹا کر اپنی نام نہاد خوشگوار زندگی کے خواب دیکھتا ہے۔ یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ قتل کبھی چھپتے نہیں اور قاتل قانون کی گرفت سے بچ نہیں پاتے۔ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے، جو کسی بھی ناحق خون کو رائیگاں نہیں جانے دیتی۔آخر قانون کی پکڑ کے ساتھ ساتھ اللہ کی پکڑ بھی آہی جاتی ہے،

 جب مذہب نے علیحدگی کے لیے طلاق اور خلع جیسے واضح راستے فراہم کیے ہیں، تو پھر انسان قتل جیسے گناہِ کبیرہ کا انتخاب کرکے اپنی دنیا اور آخرت کیوں جہنم بنا لیتا ہے؟

رواں ماہ میں پوٹھی پیٹھ بیوی کے ہاتھوں شوہر کے قتل کے بعد یہ دوسرا بڑا اندھا قتل تھا جسے پولیس نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور محنت سے ٹریس کیا۔ پولیس کا یہ اقدام نہ صرف قابلِ ستائش ہے بلکہ اس نے ثابت کیا کہ قانون کی نظر سے مجرم دور نہیں۔ اب سب کی نظریں عدالت پر ہیں کہ وہ ایسے سفاک قاتلوں کو عبرت ناک سزا دے تاکہ کسی بھی تکنیکی بنیاد پر یہ مجرم سزا سے بچ نہ سکیں۔ أمید ہے ایک تیسرا قتل رفاقت حسین جو بوڑھے والدین کا اکلوتا وارث تھا کے قاتل بھی جلد ازجلد گرفتار کرلیے جائیں گے اور انکے والدین کی بھی فورا داد رسی کی جائے گی۔

 اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ تفتیشی ٹیم کی حوصلہ افزائی ہو اور اداروں پر یہ دباؤ برقرار رہے کہ وہ قاتلوں کو ان کے کیفرِ کردار تک پہنچا کر دم لیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *