غیرت حد سے بڑھ جائے تو بربادی بن جاتی ہے اس بات کا جیتا جاگتا اور نمونہ عبرت ثبوت آج بھی جہلم کے گاؤں۔۔۔

غیرت حد سے بڑھ جائے تو بربادی بن جاتی ہے : اس بات کا جیتا جاگتا اور نمونہ عبرت ثبوت آج بھی جہلم کے گاؤں کسیال میں موجود کئی سالوں سے بند پڑا ایک مکان ہے ،جسکا سربراہ پراسرار موت کا شکار ہوا اور باقی مکین اللہ جانے کہاں چلے گئے۔
اس گھر کے سربراہ شمس پرویز عرف شمسو نے اپنی برادری کی ایک عورت کر چھیڑنے پر گاؤں ہی کے کسے شخص کو منع کیا تھا جوابا اس بدقسمت نے کہا تھا کہ میں نے جو کیا ٹھیک کیا تم سے جو ہوتا ہے کر لو ۔۔یہ ایک جملہ اس گاؤں کے دو خاندانوں کی بربادی کی بنیاد بنا ، شمس پرویزکا اسی وقت دماغ پھر گیا ، اس نے موقع پا کر سب سے پہلے یہ جملہ کہنے والے شخص کو ق۔ت۔ل کیا ، پھر مختلف واقعات میں اس کے تین مزید رشتہ داروں کو ق۔ت۔ل کیا ،اب شمس پرویز کی اس دیہاتی یا جہالت بھرے ماحول میں بلے بلے ہو گئی کہ غیرت کے نام پر اس نے اتنے ق۔ت۔ل کیے ہیں ، مگر شمسو کی زندگی سے سکون اور چین رخصت ہو گیا وہ جہلم کے نواحی پہاڑوں اور جنگلوں میں دربدر پھرتا مفروری کاٹتا رہا ، آخر ایک روز تنگ آکر تھانے پیش ہو گیا ۔
اس کے وارثوں یا رشتہ داروں نے کوشش کی اور آخر بڑی مشکل سے مق۔تولین کے ورثاء سے انکی صلح ہو گئی اور شمسو رہا ہو کر گھر آگیا ، اب وہ بظاہر ایک مختلف انسان تھا ، اپنے جرائم اور گناہوں پر شرمندہ اس نے گاؤں کے معززین اور دیگر لوگوں سے معافی مانگی کہ اس نے غصے میں آکر جو کچھ کیا اس پر شرمندہ اور معافی کا طلبگار ہوں ، گاؤں والوں نے اسے معاف بھی کردیا مگر شمس پرویز عرف شمسو کی ذات سے ضد اور میں ختم نہ ہوئی اور 2003 میں ایک روزشمس پرویز اپنے ہی گھر میں سویاتو پھر سویا ہی رہا ، رات کو نیند میں ہی اسے کسی نے گو۔لی مار کر موت کی نیند سلا دیا تھا ۔ شمسو کا ق۔ت۔ل آج بھی علاقہ میں ایک پراسرار سوالیہ نشان سمجھا جاتا ہے کہ آخر اسے کس نے ق۔ت۔ل کیا ؟ کچھ لوگ البتہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی ضد اور انا میں کسی اپنے کے ہاتھوں ہی ما۔را گیا ، واللہ اعلم بالغیب.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *