
نیچے کسی کا گھر ہے، اوپر اجازت کے بغیر آپ نہیں جاسکتے،3 بجے تک ثناء یوسف میرے ساتھ رابطے میں رہی ، نامور شخصیت کا بڑا دعوی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سینئر صحافی واینکر پرسن ہرمیت سنگھ نے بتایا کہ ثناء یوسف قتل سے کوئی گھنٹہ پہلے تک ان کے ساتھ رابطے میں تھی، ہفتہ بھر ان کا رابطہ رہا ہے ، نیچے کسی کا گھر ہے، اوپر اجازت کے بغیر آپ نہیں جاسکتے، اس کا مطلب ہے کہ یہ کوئی ان کا جاننے والا تھا جس کے نام اور شکل سے لوگ واقف تھے ۔
’’نیو ٹی وی‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ہرمیت سنگھ نے کہا کہ نیچے کسی کا گھر ہے، اوپر اجازت کے بغیر آپ نہیں جاسکتے، پھر اچانک راتوں رات میت لے جائی گئی ،شاید کوئی فیملی معاملات تھے جو میڈیامیں بھی معاملات کی ہائی لائیٹس نہیں چاہتے تھے۔
اینکر نے ایف آئی آر کے حوالے سے بتایا کہ ایک دبلا پتلا نوجوان داخل ہواجس کے پاس ہتھیار پاس تھا، کمرے میں گیا اورفائرنگ کردی حالانکہ محلے داروں نے بھی لڑکی کے کردار پر سوال نہیں اٹھایا جس پر صحافی نے بتایاکہ وہ زندگی جینا چاہتی تھی ، ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم جہالت کی اس دنیا میں رہتے ہیں کہ کسی کی تکلیف پر ہم افسردہ ہونے یا تعزیت کی بجائے زخموں پر نمک چھڑکتے ہیں، میرا مسلسل اس ہفتے رابطہ رہاہے، میرے پاس چھوٹے موٹے پراجیکٹ آتے تھے، اسی سلسلے میں آخری بار بھی رابطہ ہوا ، پہلے کی طرح نارمل حالات میں بات کی، جب بھی بات ہوئی، بڑے اچھے طریقے سے بات ہوتی تھی جو اچھی پرورش کی نشاندہی کرتی ہے۔
کیا3 بجے تک رابطے میں تھے اور ایف آئی آر میں 4بج کر 5 منٹ قتل کا وقت لکھاگیا؟ اس پر انہوں نے کہا کہ بالکل،یہاں کوئی بات کرنے کو تیار نہیں، لاش یہاں سے نانی کے گھر گئی اور پھر رات کو چترال لے گئے۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نیچے کسی کا گھر ہے،مطلب یہ لوگ اس ملزم کی شکل اور نام وغیرہ بھی جانتے تھے، پھر اوپر جا کر جو ہوا، جورپورٹ ہوا، سب نے دیکھا، پھوپھو نے بھی کہا کہ سامنے آنے پر پہچان سکتی ہوں،مجھے لگتا تھا کہ سب سے خوش انسان یہی لڑکی تھی ، اسے ٹی وی پر بھی ڈرامے کی آفر تھی ، لوگوں کو جنت دوزخ کی باتیں نہیں کرنے چاہیں، یہ رب اور انسان کا معاملہ ہے ۔
متعلقہ فیملی کے میڈیا کو فیس نہ کرنے سے متعلق سوال پر ان کاکہناتھاکہ قبائلی نظام بھی ہو تو بھی حقائق سامنے آنے چاہیں، بات چیت ہونی چاہیے تھی ، پریس کلب حاضرہے ، لیکن ایسا لگتا ہے کہ کسی سے بات کرنے کی کوشش بھی نہیں کی گئی، ایسا لگتا ہے کہ سوچ بچار کے بعد فیصلہ کرنا چاہتے تھے، متعلقہ گھر پر بھی سناٹا ہے،موت کی ذمہ دار ریاست ہے ، دنیا میں ایسے لوگ ملک کے لیے بہت کچھ کرسکتے ہیں لیکن وہ معصوم بچی اپنے ہی گھر کے اندر قتل ہوگئی، اپنے گھر میں بھی محفوظ نہیں رہی۔
Leave a Reply